مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 314
314 فرموده ۱۹۷۲ء دد د و مشعل راه جلد دوم کی کہانی پڑھی ہوگی۔یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ محض کہہ دینا کہ اسلام نے ہمیں خدا تعالی تک پہنچانے اور اس کے قرب کے حصول کی راہ بتادی ہے۔یہ ہمارے لئے کافی نہیں ہے۔ہمیں اس راہ کو اختیار کرنا چاہیئے اور صرف یہ کہہ دینا کہ ہم خواہ کتنے ہی آہستہ چلیں ہم اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے۔یہ بھی کافی نہیں ہے کیونکہ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔اور زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔اس واسطے کوشش کرنی چاہیئے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس تیز رفتاری سے چلیں کہ اپنی اس محدود اور نا معلوم مدت تک پھیلی ہوئی زندگی میں اپنے مقصد کو پہنچ جائیں۔کیوں کہ یہاں ہم جو پرچے دیں گے۔اس کے مطابق دوسری زندگی میں نتیجہ نکلے گا۔الا ماشاء اللہ اللہ تعالیٰ پھر مالک ہے جزا سزا کا وہ چاہے تو گناہ گار کو معاف کر سکتا ہے لیکن یہ سمجھنا کہ خدا یہ چاہے گا کہ مجھ گناہگار کو معاف کر دے اور دوسرے کو معاف نہ کرے یہ غلط اور نا معقول بات ہے۔اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیئے۔اس سے ڈر ڈر کر زندگی گزارنی چاہیئے۔پس ہمارا پہلا اور بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ ہم خدائے واحد و یگا نہ پر ایمان لاتے ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کی ان صفات پر ایمان لاتے ہیں جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں اور ہر بدی خدا تعالیٰ کی صفات سے کسی نہ کسی رنگ کا اعتقادی یا عملی انکار ہے۔اسی کو ہم بدی کہتے ہیں۔اسی کو ہم گناہ کہتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی صفات کا اعتقادی اور عملی انکار نہ ہو۔اور انسان کی اس زندگی ( زندگی کہتے ہی حرکت کو ہیں) کی حرکت اللہ تعالیٰ کی رضاء کی شاہراہ پر اسی جہت میں جس جہت میں وہ چلانا چاہتا ہے۔چل رہی ہو تو وہ نیکی ہے۔اور جو کسی نہ کسی رنگ میں اعتقاد ایا عملاً انکار ہے۔وہ گناہ اور بدی ہے۔دوسری حقیقت ہمیں اسلام نے یہ بتائی کہ اس ساری یو نیورس (Universe) اس عالمین یعنی ستارے جو نظر آتے ہیں اور جو نظر نہیں آتے۔غرض دنیا میں جو بھی مخلوق ہے اور دنیا سے مراد صرف یہ زمین نہیں بلکہ جہاں تک ہماری نگاہ پہنچتی ہے یا جہاں تک ہمارا تخیل پہنچتا ہے یا نہیں پہنچ سکتا جہاں بھی پیدائش ہے خدا تعالیٰ نے یہ سب کچھ پیدا کیا۔ایک ہی خدا ہے جو خالق اور باری ہے۔یعنی وہ خود ہی پلان کر کے نئے سرے سے پیدا بھی کرتا ہے اور آگے پیدائش کے اصول چلا کر اور ہر فرد کی ذاتی نگرانی کر کے اس پیدائش کے سلسلہ کو چلاتا ہے۔یعنی یہ نہیں کہ اماں حوا اور باوا آدم سے انسان پیدا کر دیا اور آرام سے بیٹھ گئے کہ اب تم سلسلہ نسل چلاؤ۔بلکہ ہر ایک کی پیدائش کے وقت اس کی ذاتی نگرانی ہوتی ہے۔اگر میں اس مضمون کو اسی طرح بیان کرتا رہا تو یہ زیادہ لمبا ہو جائے گا۔اس لئے اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ جو اصل نکتہ میں آپ کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں وہ میں آگے بیان کروں گا۔پس جو کچھ پیدا ہوا ہے یعنی خلق کی صورت میں اس دنیا میں نظر آتا ہے۔اسے اللہ نے پیدا کیا ہے جس کے متعلق میں ابھی ذرا زیادہ تفصیل کے ساتھ بتایا ہے۔یہ سب کچھ پیدا کرنے کے بعد اس نے یہ فرمایا کہ میں ایک ایسی مخلوق پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اس دنیا میں جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اس کی خدمت کرے اور اس کا نام اشرف المخلوقات رکھا۔جسے ہم انسان بھی کہتے ہیں۔پس خدا نے سب کچھ پیدا کرنے کے بعد کہا کہ میں ایک ایسی نوع انسان پیدا کرنا چاہتا ہوں۔کہ میری ہر دوسری پیدائش اس کی خدمت کرے گی۔اس کو قرآنی محاورے میں