مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 311 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 311

دومشعل کل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۲ء 311 لے جاتا ہے۔اور خدا تعالیٰ اپنی قدرتوں کا نشان دکھانے کے لیے ایسا کرتا ہے کہ امتحان کے پرچے میں وہی لڑکا جو اپنی کلاس میں بہترین طالب علم ہوتا ہے، غلطی پر غلطی کرنا شروع کر دیتا ہے۔اور وہ جس کے متعلق اس کے اپنے نفس کو یا اساتذہ کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ یو نیورسٹی یا بورڈ میں اول آئے گا وہ فیل ہو جاتا ہے یا تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوتا ہے۔ہمارے اپنے ایک غیر احمدی ساتھی نے تکبر کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بدزبانی کرتا رہا اور اس فعل ممنوع و مکروہ پر اصرار کیا۔تو وہ لڑکا جو Superior Services میں جانے کی تیاری کر رہا تھا۔وہ گورنمنٹ کالج 2nd Year میں فیل ہو گیا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم پڑھا کرتے تھے (۳۴۔۱۹۳۱ء ) تو یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوا۔حالانکہ وہ کلاس میں اچھا اور کلاس کے امتحانوں میں بڑے اچھے نمبر لینے والا طالب علم تھا۔لیکن جب اس نے تو حید باری سے ٹکر لی یعنی اللہ تعالیٰ کو اس معنی میں ناراض کر لیا کہ اس کے ایک مقرب بندے کے خلاف آوازے کسے اور یہ سمجھا کہ وہ خدا سے ٹکر لے سکتا ہے تو وہ نافہم ہو گیا۔دراصل احمدیت سے لڑنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اگر احمدیت اللہ تعالیٰ نے قائم کی ہے تو پھر احمدیت سے لڑنا خدا تعالیٰ سے لڑنا ہے۔اور خدا تعالیٰ سے لڑنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔پس یہ تضاد ہے کہ ایک ہی وقت میں خدا تعالیٰ کوعلم اور کامیابی کا سر چشمہ بھی قرار دینا اور اسی وقت میں اس سر چشمہ علم و کا میابی کو چھوڑ کر نقل کی طرف توجہ کرنا۔اور سمجھنا کہ نقل کر کے ہم اچھے نمبر لے جائیں گے۔یا یہ سمجھنا کہ ہم اپنے زور سے اچھے نمبر لے لیں گے۔یہ تضاد ہے۔غرض جو خدا کے مقابلہ پر آتا ہے۔وہ۔یہی اعلان کرتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی پرواہ نہیں ہے میں اس کے سلسلہ سے لڑائی مول لوں گا۔تمہارا خدا ( کہنے والے حماقت میں کہہ دیتے ہیں) کیا کرلے گا۔ہمارا جواب یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ تم خود دیکھ لو گے۔بلکہ ہمارا جواب یہی ہوتا ہے۔ہم تو عاجز بندے ہیں ہوگا وہی جو ہمارا خدا چاہے گا۔ہم تو اللہ تعالیٰ کو کسی بات پر مجبور نہیں کر سکتے۔یہ بھی بڑا خطرناک وہم ہے۔کہ اگر کوئی ہمیں (ایک احمدی ہونے کی وجہ سے ) دکھ دیتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا۔وہ مالک ہے وہ جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔ہمیں بھی اپنے دل میں تکبر پیدا نہیں کرنا چاہیے۔آخر عکرمہ بن ابی جہل ) کو مکی زندگی میں اور پھر اس کے بعد ایک عرصہ تک انتہائی اور شدید مخالفت اسلام کے باوجود اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا۔اگر اس وقت کوئی مسلمان یہ کہتا کہ ہمارا خدا یہ کیا کر رہا ہے ہماری خواہش تو یہ ہے کہ وہ پکڑا جائے کیونکہ وہ تلوار لے کر نکلا اور آنحضرت ﷺ کی امت ہی پر نہیں بلکہ آپ کی مقدس ذات پر حملہ کر کے پ کو ہلاک کرنا چاہا مگر کسی مسلمان نے یہ خواہش نہیں کی ( اللہ ان سے راضی ہو )۔اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی تھے۔اللہ تعالیٰ نے اسے بھی معاف کر دیا۔کیونکہ ہم خدا کے بندے ہیں۔ہم نے اس کی رضا پر راضی رہنا ہے۔اس نے ہماری رضاء کے مطابق اپنی قدرت کی تاروں کو نہیں ہلانا۔اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو اس سے زیادہ احمق کوئی نہیں