مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 290 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 290

فرموده ۱۹۷۱ء 290 د دمشعل راه راه جلد دوم کرنے کا لیکن ناقص تعریف بیان کرتے ہیں۔یہاں بھی کئی سر پھرے کہہ دیتے ہیں کہ جی ہم Leftlist (لفٹسٹ یعنی کمیونسٹ ہیں اور یہ بھی آجکل بعض حلقوں میں ایک فیشن بن گیا ہے۔میں ایسے لوگوں سے کہا کرتا ہوں تم بڑے ظالم ہو۔اللہ تعالیٰ غریب کو روپیہ دینا چاہتاہے تم اٹھنی دے کر اسے خوش کرنا چاہتے ہو جو باقی اٹھنی اس کا حق بنتا ہے تم اسے اس سے کیسے روک سکتے ہو۔غرض انسان کا دماغ جہاں تک پہنچا ہے وہ نصف بھی نہیں۔نصف بھی اپنے لئے ہے جو غریب لوگ کمیونسٹ ممالک میں ہیں۔اُن کے کوئی حقوق نہیں سمجھے گئے اور نہ ادا کئے گئے۔ان کے حقوق پامال ہو گئے۔شرک سے بچنے کا گر ہر قسم کا شرک در اصل خدا تعالیٰ سے دوری ہے۔یہ بہر حال دور ہونا چاہئیے اور ربک فکبر کے نتیجہ میں یہ دور ہو جاتا ہے یعنی جب انسان بحیثیت مجموعی خدا تعالیٰ کی صفات کو شناخت کرے گا تو وہ شرک کیوں کرے گا وہ شرک کرے گا ہی نہیں شیطان اگر کسی ایسے مسلمان کا دروزاہ کھٹکھٹائے جس نے خدا تعالیٰ کی صفات اور اس کی قدرتوں کا مشاہدہ کیا ہو اور وہ شیطان اُسے آکر کہے کہ میں تجھے کروڑ روپے دیتا ہوں تم خدا کی ہستی سے انکار کر دو تو وہ کہے گا کروڑ روپے تو مجھے دیتا ہے اپنے خزانے سے اس کو چھوڑنے کے لئے جس کے خزانے کی دولت کی کوئی انتہاء نہیں تو کہاں آبھٹکا ہے چلے جاؤ یہاں سے۔مجھے سب کچھ خدا ہی دے رہا ہے اور اسی سے میں نے لینا ہے جو شیطان دیتا ہے وہ کہاں رہتا ہے۔بعض ایسے پیسے بھی ہیں جن کو شیطان کا ہاتھ لگ جاتا ہے مثلاً رشوت میں لیا ہوا پیسہ ہے وہ تو فرشتے کے ہاتھ کا نکلا ہوا ہے یا مثلاً بلیک مارکٹنگ دھوکہ دہی یا لوٹ مار کا پیسہ ہے یا لوگ بعض دفعہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق چھین لیتے ہیں۔جن میں زمیندار بھی ہوتے ہیں اور غیر زمیندار بھی۔یہ دولت جو ہے۔یہ شیطان نے دی۔مگر کس نے اس قسم کی دولت کو قائم رہتے دیکھا یہ جلد ختم ہو جاتی ہے اور ضائع ہو جاتی ہے اور جو اس کے سب تکلیفیں اور عذاب ہیں جن میں اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کو بتلا کرتا ہے وہ زائد ہیں۔غرض شیطانی ہاتھ سے آنیوالا پیسہ پائیدار چیز نہیں ہوتی لیکن جو چیز خدا سے ملتی ہے وہ پائیدار ہوتی ہے بشرطیکہ انسان کا اپنے رب سے تعلق پائدار رہے۔یہ نہیں کہ تم خدا سے پیار حاصل کر کے کہو کہ ہم نے پیار لیا۔اے خدا! اب کچھ ہم شیطان سے بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ تو ہلاکت کی راہ ہے۔اسی لئے حضرت نبی کریم ﷺ نے بار بار فرمایا ہے کہ خاتمہ بالخیر کیلئے دعا کیا کر و بعض لوگ بڑے بڑے بزرگ تھے لیکن بدقسمتی سے شیطان کے بہکانے میں آگئے تو جتنے اونچے گئے تھے اتنی ہی زور سے زمین پر آ گرے۔جو آدمی اس شامیانے پر سے گرے گا اس کی تو شاید انگلیاں ٹوٹ جائیں یا شاید ہڈیوں میں بال آجائے لیکن جو ساتویں آسمان سے گرے گا وہ تو قیمہ بن جائے گا۔یہی حال ان بزرگوں کا ہوا جو شیطان کے بہکانے میں آگئے ایک وقت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کا جتنا پیار حاصل کیا اتنا ہی وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے آگئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کا اتنا حسن تھا اتنا علم تھا اتنا نور تھا یعنی نور