مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 291
291 فرمودہ ۱۹۷۱ء د و مشعل راه جلد دوم دد السموات والارض تھا جس سے دوری تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے اس کو شناخت کرنے کے بعد اور اس کی روشنی میں جا کرانہوں نے اندھیرے کا انتخاب کر لیا۔نفس موٹا ہو گیا اور وہ اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ گئے اور اپنا آپ بھول گئے اپنا مقام بھول گئے خدا تعالیٰ سے جو تعلق یا اس کی طرف سے جو ذمہ داریاں ہیں اُن کو بھول گئے تو پھر کسی کام کے نہ رہے اور گناہ دراصل اسی معنی میں شرک ہے لوگ بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں کہ صرف درخت وغیرہ کی پوجا شرک ہے نہیں ! دراصل شرک ہے خدا سے دُوری اور اسی کا نام گناہ ہے۔چھٹی صفت گناہ سے پر ہیز رجز کے دوسرے معنی الدنب یعنی گناہ کے ہیں۔دراصل گناہ شرک کا ہی دوسرا نام ہے۔شکل ذرا بدلی ہوئی ہے عام آدمی کے لئے شاید سمجھنا مشکل ہو جائے۔در حقیقت خدا سے دوری گناہ ہے جو شخص خدا کو پہچان لیتا ہے اور خدا کے نور کی چھاؤں کے نیچے آجاتا ہے وہ اندھیرے میں کیسے چلا جائے گا۔وہ گناہ کیسے کر لگا۔گناہ خدا سے دوری اور تاریکی کا راستہ ہے۔بعض دفعہ انسان خدا کی صفات کے شناخت کرنے کے بعد بھول جاتا ہے اور یہ بھول جانا اس کی زندگی کے ساتھ لگا ہوا ہے۔بعض دفعہ ممکن ہے انسان کا حافظہ کمزور ہوا اور اس سے بظاہر گناہ سرزد ہو جائے۔ایسے شخص کو ہم گنہ گار ہیں کہتے۔لیکن کیا اس شخص کو نماز میں وہی لذت مل رہی ہوتی ہے جو اس آدمی کوئل رہی ہے جس کا حافظہ کمزور نہیں ہوا۔ایک احمدی عورت کا واقعہ مجھے ایک مثال یاد آ گئی ہے۔ہماری ایک احمدی بہن جس کی شادی ہوئے کئی سال ہو گئے ہیں مگر ابھی تک اس کے بچہ پیدا نہیں ہوا ( آپ بھی دعا کریں میں بھی دعا کر رہا ہوں ) میرے پاس دعا کرانے کے لئے آئی مگر روتی چلی گئی۔میں بڑا حیران ہوا اور اس سے کہا تم احمدی ہو۔تمہارا خدا کی ہستی پر یقین ہے۔مسکراہٹیں ہمارے چہروں پر کھیلتی ہیں تم نے رونا کیوں شروع کر دیا ہے۔وہ کہنے لگی میں نے نماز چھوڑ دی ہے میں نے کہا تمہیں کیا ہو گیا۔تم نے نماز کیوں چھوڑ دی وہ کہنے لگی کہ میں نے نماز پڑھنی اس لئے چھوڑ دی ہے کہ جب میں نماز کی نیت باندھتی تھی تو گندے گندے خیالات آنے لگتے تھے۔پھر میں نیت تو ڑ کر دوبارہ باندھتی تھی پھر اسی طرح گندے خیالات آنے لگ جاتے تھے۔آٹھ آٹھ دل دس بلکہ بعض دفعہ میں بیس مرتبہ یہی ہوتا تھا تو میں نے کہا چلو نماز ہی چھوڑ دو۔خیر اللہ تعالیٰ نے اُس پر فضل کرنا تھا میں نے اسے کہا۔استعمال کر کے دیکھو اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہو گیا تو تمہیں فائدہ پہنچے گا۔چنانچہ ۱۵/۲۰ دن کے بعد وہ مجھے دوبارہ ملی تو میں نے اسے پہچانا نہیں کیونکہ اس کو جو حالت میری نظر میں آئی تھی کہ آنسو بہہ رہے ہیں اور بہت پریشان حال اور اب اس کی ساری پریشانی دور ہو چکی تھی۔میں نے پوچھا تمہیں کوئی فائدہ ہوا ہے کہنے لگی کہ دیکھیں کتنا فائدہ ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب میں