مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 271 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 271

271 فرموده ۱۹۷۱ء دو مشعل راه جلد دو دوم نکالتی ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم جو قیامت تک کے بدلے ہوئے حالات کے لئے کافی وشافی سمجھی گئی اور انسان کے دل اور دماغ اور اس کی روح کو تسلی دلانے والی سمجھی گئی تو اس لئے کہ قرآن کریم کتاب مکنون کی حیثیت سے ہر بدلے ہوئے حالات کی الجھنوں کو سلجھانے کی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے۔دوسری شکل یہ بنتی کہ قرآن کریم اس لئے آخری تعلیم ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد انسان ایک جگہ ٹھہر جائے گا اور اس کا ذہن ترقی نہیں کرے گا اور اس کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا ہو گی تب بھی قرآن کریم کی تعلیم ایک آخری شریعت ہوتی جو انسان کے لئے کافی ہوتی کیونکہ اس کے بعد انسان نے بدلنا نہیں تھا اور وہ اس وقت کے حالات کے مطابق نازل ہو چکی تھی۔چونکہ عملاً یہ نہیں ہے اور ہمیں نظر آ رہا ہے کہ انسان بدل رہا ہے اور بدلتا چلا آیا ہے اور ہمیں کوئی معقول وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ وہ آئندہ ٹھہر جائے گا۔پیچھے چودہ سو سال گذر گئے ہیں اور وہ اس میں بدلا ہے۔چونکہ انسان نے بدلتے ہی رہنا تھا اس واسطے اس کو تسلی دینے کے لئے ایسے حالات پیدا ہونے چاہئیں تھے کہ اسلامی تعلیم اس کے لئے کافی ہوتی چلی جاتی۔سب سے بڑا حملہ جو کسی مذہب پر کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات اور بدلے ہوئے تقاضوں کو یہ پورا نہیں کرتا۔اور اس کی تعلیم بدلے ہوئے حالات کے مطابق نہیں۔پس خدا نے کہا کہ یہ کتاب مکنون ہے اور فرمایا :- انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (الحجر: ١٠) کہ ہم اس ذکر کی حفاظت کریں گے اور اس کی حفاظت کے سامان کریں گے۔یعنی ایسے لوگ پیدا کریں گے جو قرآن کریم کے چھپے ہوئے خزانوں میں سے معاشرے کی گتھیوں کو سلجھانے کے لئے وہ باتیں وہ دلائل اور وہ بیان نکالیں گے کہ انسان کا ضمیر اور انسان کا دماغ اور اس کی روح تسلی پکڑ جائیں گے۔ہمیں یہ نظر آ رہا ہے کہ اگر حقیقی معنی میں کوئی اصل انقلابی دنیا میں پیدا ہوا ہے تو وہ مذہب اسلام ہے اور اگر کوئی گروہ اپنے آپ کو انقلابی کہنے کا حقدار ہے تو وہ امت محمدیہ ہے کیونکہ اسلام نے ہر آدمی کی ضرورت کا خیال رکھا ہے۔اب حالات اس طرح بدل گئے ہیں۔میں آپ کو اس کی ایک موٹی مثال دیتا ہوں کہ دو اڑھائی سو سال پہلے ہماری یعنی انسان کی (انڈسٹری ) صنعت ترقی یافتہ نہیں تھی۔اڑھائی سو سال سے ایک تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوئی اور حالات بالکل بدل گئے۔پہلے تو مزدور کا دماغ میں تصور ہی نہیں تھا لیکن اب مزدور کا تصور آ گیا۔حالات کے بدلنے کی وجہ سے مزدور کا جو نیا تصور پیدا ہوا اس تصور کی بدولت بڑا ز بر دست مسئلہ پیدا ہو گیا۔بڑی تباہیاں آئیں اور عارضی طور بڑے انقلاب بھی پیدا ہوئے۔مزدور کے تصور میں سب سے بڑا انقلاب اشتراکیت کا انقلاب ہے۔اس وقت انہوں نے کارخانے کے مزدور کے ساتھ کھیتوں پر کام کرنے والے زراعت کے مزدور کو بھی بریکٹ یعنی متحد کر دیا تھا۔انہوں نے اپنی طرف سے بڑا معرکہ مارا اور ایک انقلاب بپا کیا۔لیکن خود