مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 270
د د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۱ء 270 (نمائندگان) ہر جگہ سے آئیں خواہ بیچ میں دو ایک مکے باز بھی آجائیں۔کوئی حرج نہیں۔آپ جو چھوٹی عمر کے ہیں آپ کے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب ہم اسلام کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اسلام میں بعض چھوٹے چھوٹے ایسے زمانے آتے ہیں جن میں اسلام بعض جگہوں اور بعض علاقوں سے پیچھے ہٹ رہا ہوتا ہے لیکن شروع سے لیکر اس وقت تک صرف اسلام ہی ایک مذہب اور امت محمدیہ ہی انسانوں کا ایک گروہ ہے جو آگے ہی آگے بڑھتا چلا آیا ہے اور تاریخ اس پر شاہد ناطق ہے۔اسلام دل جیتنے کی طاقت رکھتا ہے تاریخ کی آنکھ نے ہلا کو اور اس کی اولاد کے گھوڑوں کے ٹاپوں کے نشان ہمیشہ کے لئے صرف ایک سمت میں چلتے ہوئے نہیں دیکھے بلکہ کچھ عرصہ کے بعد جب مسلمانوں کو بعض علاقوں میں ان کی غفلت اور ان کے گناہوں کی سزا دی جا چکی تو اس وقت ہمیں پھر یہ نظر آتا ہے کہ مسلمانوں کے گھوڑوں نے ہلاکوں خان اور اس کی اولاد کے گھوڑوں کا پیچھا کیا اور گوبی کے صحرا تک ان کا پیچھا کرتے چلے گئے۔کہتے ہیں (واللہ اعلم ) کہ انہوں نے ہلا کو اور اس کی اولاد) نے مفتوحین کے سروں کے ڈھیر لگائے اور مینارے بنائے۔اس کے مقابلہ میں اسلام نے ہلا کو کی اولا د اور اس کے قبائل کے دل جیتنے کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر بے شمار مغل دل لا کر رکھ دیا۔اسلام میں یہ طاقت تھی۔اس نے دل کا ٹا نہیں۔دل جیتا ہے اور ہمیشہ یہی مقابلہ اسلام کا کفر کے ساتھ نظر آتا ہے۔کفر تلوار سے گردن اڑاتا ہے اور اسلام اپنے حسن کے جلووں کے ساتھ دلوں کو جیتتا ہے۔پس صرف ایک حرکت نہیں تھی کہ ہلا کو اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے قبائل گوبی کے صحراء سے گھوڑے دوڑاتے ہوئے بغداد تک پہنچ گئے اور زمانہ ختم ہو گیا بلکہ پھر ایک وقت آیا کہ امیر تیمور (اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوان پر اور دوسرے لوگ پیچھا کرتے چلے گئے۔خود ہلاکو خان اصل نہیں بلکہ اصل چنگیز ہے کیونکہ پہلے چنگیز ہی نکلا ہے ویسے ہلا کو زیادہ اندر تک گیا ہے اس واسطے زبان پر اس کا نام آ گیا۔اس چنگیز کے ایک پوتے نے اسلام قبول کر لیا تھا اور ان کی شکستوں کی ابتداء اس طرح ہوئی ہے کہ چنگیز کے اپنے قبائل اور اس کی اپنی اولاد میں سے ایک گروہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر کفر کے مقابلہ میں نبرد آزما ہو چکا تھا۔اسلام قیامت تک کے مسائل کو حل کرنے کے قابل ہے اسلام آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا اور اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک انقلابی مذہب ہے۔جب سے انسان پیدا ہوا انسان کے حالات بدلتے رہے ہیں اور بدلتے رہیں گے۔انسانی زندگی کو بحیثیت انسان کے کسی جگہ قرار نہیں اور اسلام نے یہ دعویٰ کر دیا کہ قیامت تک کے لئے قرآنی تعلیم انسانی مسائل کو حل کرنے کے قابل ہے اور حل کرے گی۔ہمیں انسان کے حالات نظر آ رہے ہیں کہ بدل رہے ہیں۔اس سے ہماری عقل یہ نتیجہ