مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 269
269 فرموده ۱۹۷۱ء دد دو مشعل راه جلد دوم سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مجلس خدم الحد یہ مرکزیہ کی اٹھارہویں سالانہ تربیتی کلاس کے اختتام کے موقعہ پر مورخہ ۱ جون ۱۹۷۱ ء ایوان محمود میں جو ایمان افروز خطاب فرمایا اس کا مکمل متن درج ذیل ہے ( غیر مطبوعہ ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - مجلس خدام الاحمدیہ کی یہ کلاس سال بسال ترقی کر رہی ہے پچھلے پانچ سالوں کا نقشہ یہ ہے۔۱۹۶۷ء میں ۳۰ مجالس اور ۱۰۱ نمائندگان اس کلاس میں شامل ہوئے تھے۔۱۹۶۸ء میں ، ۷ مجالس اور ۱۷۰ نمائندوں نے شمولیت کی تھی اور ۱۹۶۹ء میں۱۷۰ مجالس اور ۳۵۰ نمائندوں نے شرکت کی تھی۔۱۹۷۰ء میں مجلس پھر نیچے چلی گئی۔اس سال صدارت بدلی ہے۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ نئے صدر کو کام سنبھالنے میں کچھ وقت لگتا ہے جو درست نہیں ہے۔یہ نقشہ انتظامی کمزوری کی طرف دلالت کرتا ہے کیونکہ گذشتہ برس مجالس، ۱۷ سے گر کر ۱۳۹ تیک پہنچ گئیں اور نمائندے ۳۵۰ کی بجائے ۲۱۷ شامل ہوئے۔لیکن امسال یعنی 1951 ء میں تعداد مجالس نہ صرف سے ۱۳۹ سے بڑھ گئی بلکہ اس سے پہلے کی سب سے بڑی تعدادہ ۷ سے بھی آگے نکل کر ۲۶۵ مجالس شامل ہوئی ہیں اور ۱۹۶۹ء کے۰ ۳۵ نمائندوں کے مقابلہ میں ۴۳۴ نمائندے شامل ہوئے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ پچھلے سال تعداد گری ہے لیکن مجموعی اثر یہ ہے کہ پھر سنبھالا لے لیا اور ۱۹۶۷ ء سے لگا تار ترقی کرتے چلے آئے ہیں اور تعداد مجالس ۲۶۵ تک اور نمائندگان کی تعداد ۴ ۴۳ تک پہنچ گئی ہے۔۲۶۵ کی تعداد بھی میرے لئے تسلی کا باعث نہیں۔اس وقت مغربی پاکستان میں ۰۴ ۷ مجالس ہیں۔ان سب کے نمائندے تو آنے چاہئیں بہر حال مجلس کا قدم ترقی کی طرف ہے۔کوشش یہ کرنی چاہئے کی قریباً ہر مجلس سے نمائندے آئیں کیونکہ جس طرح ہماری بعض جماعتیں چھوٹی ہیں اسی طرح بعض مجالس بھی بہت چھوٹی ہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ بعض مجالس کے حالات ایسے ہوں کہ ہر جگہ سے نمائندہ نہ آسکے اور ان کی جائز مجبوری ہو۔اس موقعہ پر محترم صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے حضرت امیر المومنین کی خدمت میں عرض کیا امیرالمونین کی۔کہ سندھ میں ابھی میٹرک کے امتحانات نہیں ہوئے۔) فرمایا:- یہ کہتے ہیں کہ سندھ میں میٹرک کے امتحان ابھی نہیں ہوئے اور ایک وجہ یہ بھی ہوگئی ہے۔گو میرا خیال ہے کہ سندھ کے سارے خدام و اطفال میٹرک کا امتحان دینے والے نہیں۔بہر حال کافی ترقی ہے اور کافی ترقی کی گنجائش بھی موجود ہے۔اللہ تعالیٰ منتظمین کو یہ مسئلہ سمجھنے اور اس کا حل پالینے کی توفیق عطا کرے۔پس آپ