مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 249 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 249

249 فرموده ۱۹۷۰ء د مشعل راه جلد دوم قابو نہ پائے بلکہ آپ نفس پر قابو ر کھتے ہوں۔اس کے بغیر خدمت کی قوت اور استعداد اپنی نشو ونما میں کمال تک نہیں پہنچ سکتی۔پھر عفت ہے عفت کے ایک معنے احسان کے بھی ہیں یعنی جو نفسانی شہوات ہیں ان کو اپنے قابو میں رکھنا لیکن عفت کے اصل معنے اس سے زیادہ وسیع ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہر اس چیز سے پر ہیز کرنا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور ہر وہ چیز جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے وہ چہرے پر ایک داغ چھوڑ جاتی ہے۔یا یوں کہئے کہ نفس پر ایک داغ چھوڑ جاتی ہے۔پس ایسی چیزوں سے پر ہیز کرنا ضروری ہے جو انسان کو داغدار کر دیں۔اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والی ہوں ورنہ خدمت کا جذبہ ابھر نہیں سکتا۔کیونکہ اگر آپ کچھ چیزوں کا (جو آگے آ جاتی ہیں۔جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نمایاں کر کے لکھا ہے ) خیال نہیں رکھیں گے تو آپ کی کوئی قوت صحیح اور کامل نشونما حاصل نہیں کر سکے گی مثال کے طور پر بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ویسے وہ تو ہمارا حسن ہے اس نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ وہ ہمیں دکھ میں ڈالنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کیا ہے کہ وہ ہمیں سکھ پہنچانا چاہتا ہے یا ہر ایسی چیز جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے یہ وہ چیز ہے جو انسان کی قوتوں کی نشو و نما میں روک بنتی ہے لیے اس سے منع کیا گیا ہے۔اسی کو گناہ کہتے ہیں۔اسلام میں اور قرآن کریم میں گناہ کی یہ بڑی ہی عجیب تعریف بیان کی گئی ہے۔ہر وہ چیز جو انسان کی سب یا بعض قوتوں اور استعدادوں کی نشو و نما میں روک بنتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرام کر دی گئی ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کے مختلف قومی کی نشوونما میں ممد و معاون ہے اسے حلال قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ انسان کی ان کی طبائع مختلف ہیں اس لئے کسی فرد کے لئے کوئی چیز موافق آتی ہے اور کسی کے لئے کوئی جس طرح کھانے کا حال ہے اسی طرح دوسرے احکام کا حال ہے۔جو چیز انسان کے نفس مجموعی طور پر جو قو تیں اس کے اندر ہیں ان کے مناسب حال ہے ہماری زبان میں اسے طیب کہتے ہیں۔پس ایک احمدی نے صرف حلال چیزوں کی طرف ہی توجہ نہیں کرنی۔بلکہ حلال میں سے پھر طیب کا خیال کرنا ہے بعض ماں باپ غلطی کر جاتے ہیں بچے کو کہتے ہیں یہ ضرور کھاؤ۔یہ ضروری نہیں کہ جو چیز ان کے لئے طیب ہو وہ ان کے بچے کے لئے بھی طیب ہو۔ہمارے گھر میں لطیفہ ہوا ہماری ایک چھوٹی عزیزہ بچی جس کی عمر ۳ سال ہے اُسے اسہال آنے شروع ہوئے اور وہ بضد ہوئی کہ میں نے چنے کھانے ہیں۔وہ اپنے والدین کے ساتھ ایک دو دن کے لئے اپنی نانی کے ہاں آئی ہوئی تھی۔اتفاقاً انہوں نے شام کی چائے پر چنے رکھے ہوئے تھے۔چنانچہ ماں باپ ایک طرف اور وہ بچی ایک طرف۔ماں باپ اسے کہہ رہے تھے کہ تمہیں اسہال آ رہے ہیں تمہیں چنے نہیں کھانے دینے اور وہ کہے اسہال آ رہے ہیں یا نہیں میں نے چنے ضرور کھانے ہیں۔آخر اس کی نانی نے کہا جب اس کی خواہش ہے تو اسے چنے کھانے دو۔چنانچہ اس نے چنے کھائے اور اسہال کا علاج ہو گیا اسہال آنے بند ہو گئے کیونکہ یہ اس کے اندر کی Urge (ارج) تھی۔یہ اس کے جسم کی آواز تھی کہ چنے کھاؤ یہ تمہارا علاج ہے۔اب یہ جانور ہیں۔ان میں سے اکثر ایسے ہیں مثلاً بھیڑ بکریاں ہیں یہ چر رہی ہوتی ہیں بعض دفعہ ایک بکری