مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 218
د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 218 گے۔ایک ایسا شخص جو اسلام کی مخالفت میں دولت کی قربانی کر رہا ہے۔عیسائیوں میں ایسے بہت لوگ ہیں۔اس کو جتنی زیادہ دولت ملے گی اتنا ہی وہ زیادہ اسفل السافلین کا مصداق بنے گا یعنی اس کا اس طرح اپنی دولت کو خرچ کرنا جہنم میں ٹھکانا بنانے کے مترادف ہے۔کیونکہ جس شخص نے اپنی دولت کا 100\1 حصہ اسلام کے خلاف استعمال کیا اس کے مقابلہ میں وہ شخص جو کروڑ پتی تھا اور جس نے اپنی دولت کا نصف حصہ اسلام کی مخالفت میں خرچ کر دیا اس سے خدا تعالیٰ کا مواخذہ بھی زیادہ ہو گا۔یہ نسبت امارت اور غربت کے درمیان بڑھتی چلی جاتی ہے یعنی غریب لوگ کم نسبت سے خرچ کر سکتے ہیں کیونکہ ان پر اور بڑا بار ہوتا ہے۔پس دیکھنے والا کہے گا کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے اور یہ بڑا امیر آدمی ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے شخص پر میں نے دولت کے دروازے جو وا کئے ہیں وہ محبت اور پیار کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ اس کی آزمائش کے لئے ہیں اور اس میں اس کے لئے ایک ابتلاء ہے اور یہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتا اور مجھ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور جہنم کی اتھاہ گہرائیوں میں اور بھی زیادہ غرق ہوتا چلا جاتا ہے۔لیکن ایک دوسرا شخص ہے اس کو اللہ تعالیٰ دولت اتنی دیتا ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں۔وہ ساری دولت لا کر خدا کی راہ میں قربان کر دیتا ہے اپنے پاس کچھ بھی نہیں چھوڑتا کیونکہ اس کا سارا تو کل اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے۔تاریخ میں حضرت نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کی مثالیں بھی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کی مثالیں بھی ہیں اور آپ سے پہلے کے زمانے کی مثالیں بھی ہیں کہ کئی لوگوں نے باوجود بڑے دولت مند ہونے کے ساری کی ساری دولت اسلام کی راہ میں قربان کر دی یہ لوگ جو ہزاروں کی تعداد میں ایک تھیلا ہاتھ میں لئے اور ایک جوڑا کپڑے پہنے دنیا میں نکل کھڑے ہوئے تھے۔ان میں سے کئی ایک بڑے امیر بھی تھے لیکن وہ ا سلام کی تبلیغ کے لئے دُنیا کے مختلف ممالک میں نکل گئے۔اُن کے دلوں میں یہی خیال تھا کہ یہ دولت تو آنی جانی چیز ہے اس کو چھوڑ و جہاں کی یہ ہے وہیں رہنے دو۔چلو ہم ساری دُنیا میں جا کر خدا تعالیٰ کا نام بلند کریں۔نہیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر کچھ ہو نہیں سکتا تد بیر کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی نکالتی ہے پس تدبیر تو ہم کرتے ہیں لیکن نتیجہ خدا تعالیٰ نکالتا ہے۔آخر یہ ساری تنظیمیں کوئی خدام الاحمدیہ کی شکل میں اور کوئی لجنہ اماءاللہ کی شکل میں تدبیر ہی ہیں لیکن ان تنظیموں کی کوششوں کا نیک نتیجہ صرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے نکلتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو جذب کرنے کے لئے ایسی دعا کی ضرورت ہے جو نہایت متضرعانہ ہو اور خود پر ایک موت وارد کرنے کے بعد کی جائے جب انسان فنا کی راہوں کو اختیار کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس نیستی میں اپنی قدرت کے جلووں کو ظاہر کرتا ہے۔غرض نیستی کی راہوں کو اور عاجزی کی راہوں کو اختیار کرنا چاہیے۔مجھے امید ہے کہ مجلس خدام الاحمدیہ انشاء اللہ ہر نئے دور میں پہلے سے زیادہ ترقی کرتی چلی جائے گی۔جب تک اس مجلس کا کام ختم نہیں ہو جاتا ( تین سو سال تک یا ہزار سال تک یادو ہزار سال تک اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ) یہ آگے ہی آگے بڑھتی چلی جائے گی۔لیکن ہماری دعائیں بھی یہی ہیں اور ہماری کوششیں بھی یہی ہیں کہ اس کا ہر قدم پہلے سے زیادہ آگے بڑھنے والا ہو