مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 203 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 203

203 فرموده ۱۹۶۹ء دد د و مشعل راه جلد دوم کتب حضرت مسیح موعود کے مطالعہ کی عادت ڈالیں پہلی چیز تو یہ ہے کہ ایسے نوجوانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیئے (ویسے تو اکثر مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔مجھے کہنے کی ضرورت نہیں لیکن جو مطالعہ نہیں کرتے وہ اس وقت میرے مخاطب ہیں ) اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت ﷺ کا جو حسن و احسان بیان فرمایا ہے اس سے ہمارا ایک نوجوان آگاہ ہی نہیں تو اس حسن و احسان کا عاشق کیسے ہوگا اور اس کا گرویدہ کیسے بنے گا؟ اور وہ حسن اس کے سامنے آہی نہیں سکتا جب تک اس حسن کا بیان نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو اپنے فضل سے جس رنگ میں اپنے پیار کے جلوے دکھائے ہیں اور دکھاتا چلا جاتا ہے اگر کوئی احمدی نوجوان نے جو تھوڑا بہت شعور رکھنے والا ہے اس پیار کے جلوے کو مشاہدہ ہی نہیں کیا تو اس کا غلام کیسے بن جائے گا۔کیونکہ جب وہ قادرانہ تصرفات کو دیکھ لیتا ہے تو اپنا تو پھر کچھ نہیں رہتا۔اس کو پتہ لگ جاتا ہے کہ میں کیا چیز ہوں۔میں تو محض نیستی ہوں۔کوئی غلط خیال یا شیطانی وسوسہ دل میں پیدا ہی نہیں ہوتا۔انسان کبھی تکبر سے کام لے سکتا ہے۔یار یاء سے کام لے سکتا ہے یا خود نمائی کے جال میں پھنس سکتا ہے مگر جس پر قادر و توانا کی قدرت اور اس کا جلال جلوہ فگن ہو اس پر یہ چیز عیاں ہوگئی کہ مخلوق کی کوئی قیمت نہیں۔اس کی کوئی عظمت نہیں۔سب عظمتیں اس ایک ہی عظمت والے کے سامنے بیچ ہو جاتی ہیں۔سب مٹ جاتی ہیں اور فنا ہو جاتی ہیں۔لیکن جس نے خدا تعالیٰ کے اس جلال اور اس کا عظمت کا جلوہ نہیں دیکھا وہ کیسے فانی فی اللہ بنے گا۔البتہ یہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ وہ ہے تو ہیرا لیکن کٹا ہوا نہیں ہے بہت سے مٹی کے ذرے اس پر پڑے ہوئے ہیں اور اس وجہ سے وہ اثر جو وہ روحانی طور پور قبول کر سکتا تھا وہ قبول نہیں کر رہا۔اس لئے اس کے لئے دعا کے ذریعہ سے اور اس کو پالش کر کے اور رگڑ کر اچھی طرح صاف کیا جائے تاکہ روحانی طور پر وہ اثر قبول کرنے لگے۔کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو سب سے بڑی روحانی قوت عطا کی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:- اور روحانی قوتیں صرف انفعالی طاقت اپنے اندر رکھتی ہیں یعنی ایسی صفائی پیدا کرنا کہ مبدء فیض ان میں منعکس ہوسکیں سو اُن کے لئے یہ لازمی شرط ہے کہ حصول فیض کے لئے مستعد ہوں اور حجاب اور روک درمیان نہ ہو تا خدا تعالیٰ سے معرفت کا ملہ کا فیض پاسکیں“۔روحانی اثر قبول کرنے والی قوت پیدا کرنی چاہیئے۔(حقیقۃ الوحی صفحه ۶) پس روحانی قوتیں تو انفعالی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں اثر قبول کرنے کی طاقت ہے اور جس دل اور جس روح میں مستعدی ہو وہی اللہ تعالیٰ کے جلووں کا اثر قبول کرتی ہے۔یہ انفعالی قوت پیدا کرنی چاہیئے اور