مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 202
دوم فرموده ۱۹۶۹ء 202 د دمشعل کا چہرہ نظر آیا۔گلاب کا پھول جب صبح کے وقت تازہ تازہ کھلتا ہے تو اتنا حسین نظر آتا ہے کہ انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ اس کی طرف دیکھتا ہے اور اس کے حسن سے لذت حاصل کرتا ہے۔لیکن اس پیارے خدا کے حسن کا جلوہ کچھ اس طرح ان پر حاوی ہوتا ہے کہ جس وقت وہ گلاب کا یہ حسن دیکھتے ہیں تو انہیں گلاب یاد نہیں رہتا بلکہ اس گلاب کے پھول میں انہیں اپنے رب کے حسن کی ایک جھلک نظر آتی ہے ان کی زبان سے گلاب کی تعریف نہیں نکلتی۔ان کی زبان پر اپنے رب کی تعریف جاری ہوتی ہے۔یہی حال چاند کا ہے اور ہر قسم کا حسن جو ہے جب ایسے بندے کی نگاہ اس پر پڑتی ہے تو یہ چیزیں اس کو نظر ہی نہیں آتیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے جلوے ان میں نظر آتے ہیں۔جب کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنے خوبصورت گھوڑوں میں اللہ تعالیٰ کی شان نظر آئی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ ان چیزوں سے میں اس لئے پیار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے مجھے پیار ہے اور اس کی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کے حسن کے مختلف جلوے ہیں جہاں یہ جلوے نظر آتے ہیں اللہ تعالیٰ کی محبت جوش مارتی ہے اور انسان خود بخود ان سے پیار کرنے لگتا ہے۔لیکن ایک حصہ بچوں اور نوجوانوں کا ایسا ہے جنہوں نے یہ حسن نہیں دیکھا جنہوں نے اس نور کے جلووں کا مشاہدہ نہیں کیا۔جماعت احمدیہ کے گرد خدا کے نور کا ہالہ ہے جنہوں نے خدائے قادر و توانا کے قادرانہ تصرفات کا علم حاصل نہیں کیا اور آہستہ آہستہ ان کی جسمانی نشو ونما پر اور ان کے ذہنوں پر اور ان کے اخلاق پر اور ان کی روحانیت پر گردوغبار پڑ رہا ہے۔اور زنگ لگ رہا ہے اور ساری جماعت کو یہ فکر کرنی چاہیئے کہ ہم نے ان کو واپس لا کر نور کے اس ہالہ کے اندر لے آنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کے گرد کچھ اس طرح ڈال رکھا ہے کہ اس کے اندر کوئی ظلمت داخل نہیں ہو سکتی بڑے بڑے اندھیروں نے طوفان کی شکل اختیار کر کے اس ہالہ کو تو ڑ کر اس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن وہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار سے اپنے نور کی چادر میں لپیٹا ہوا تھا ان کے قریب اس اندھیرے کا ذرا سا اثر بھی پہنچنے نہیں پایا۔اور اسی طرح خوش باش خدا تعالیٰ کے نور میں نہاتے اور اس کے حسن سے لذت اٹھاتے ہوئے خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے قرب کی راہوں پر آگے سے آگے بڑھتے چلے گئے لیکن کچھ ہمارے بھائی پیچھے رہ گئے ہیں ان کو اپنے ساتھ لانا ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ہمارے ذمہ داری پوری نہیں ہوتی۔آج اگر احمدی کے دل میں (اب میں ایک ایسا لفظ بولتا چلا جاؤں گا جسے آپ سمجھ لیں گے تفصیل میں میں نہیں جاؤں گا۔میں جب احمدیت کہوں گا تو احمدیت نے اسلام قرآن کریم۔آنحضرت ﷺ اور اللہ تعالیٰ کے متعلق جو تعلیم بتائی ہے وہ بڑی عظیم ہے اور ہمارے سامنے بیان کر دی گئی ہے ) اپنے کمز ور حصہ کا خیال ہو تو وہ ضرور اس نتیجے پر پہنچے گا کہ احمدیت کی صحیح ہدایت کا یہ تقاضا ہے کہ کمزوروں کو بھی اپنے ساتھ ملانا ہے اور ان کو واپس اپنی ڈار میں لا کھڑا کرنا ہے۔اس کے لئے ہمیں کئی تدبیریں کرنی پڑیں گی اور خدا داد قوتوں کو استعمال میں لانا پڑے گا۔