مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 201
201 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے یہ نتیجہ نکالا کہ حج ارکان اسلام کا ایک رکن ہے لیکن دینا اسلام کو بھول چکی ہے اب احمدیت وہ چشمہ ہے جہاں سارا اسلام ملتا ہے۔ساری عبادتیں یعنی نماز روزہ وغیرہ اور سارے عقائد اور ساری حکمتیں اور سارے اسرار روحانی کا سر چشمہ یہی ہے۔آپ وہیں ٹھہر گئے۔لیکن آپ کو نظر آرہا تھا ( اور بہت سے قرائن سے معلوم ہوتا ہے ممکن ہے کہیں لکھا بھی ہو )۔آپ کو یقین تھا کہ شہادت کا جام نوش کرنا پڑے گا۔ان کو خود بتایا گیا تھا کہ تم اس چیز کو قبول کر رہے ہو جسے دنیا آج قبول نہیں کر رہی اس لئے وہ تمہاری جان لے گی۔انہوں نے اپنے رب کے حضور یہی عرض کیا کہ اے خدا تیرا چہرہ مجھے نظر آ گیا تیرے حسن کا میں گرویدہ ہو گیا اب دُنیا مجھے زندہ رکھے یا مارے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پس آپ کو یقین تھا کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا لیکن اس بہادر مرد اور خدا کے پیارے نے کوئی پرواہ نہیں کی۔دندناتا ہوا اپنے وطن واپس پہنچ گیا۔کابل کے حاکم کو اس کے ساتھ لگاؤ تھا۔پرانے خاندانی تعلقات تھے۔اس نے بہتیر از ور لگایا کہ آپ خواہ ظاہری طور پر ہی احمدیت کا انکار کر دیں تا کہ آپ کی جان بچالی جائے۔آپ کی عزت دوبارہ قائم کر دی جائے۔انہوں نے فرمایا نہ مجھے عزت چاہیے نہ مجھے جان چاہیے۔مجھے تو خدا چاہیئے اور جہاں سے مجھے خدا ملے میں نے اس کو حاصل کرنا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ایک نہیں دو نہیں بلکہ ایسی بیبیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں مگر اس وقت تفصیل میں جانے کے لئے وقت نہیں ہے۔ایک ماں ہے جو اپنے بچے کی تکلیف کو دیکھ کر پاگل ہو جاتی ہے۔اگر اس کے بچے کے قریب سانپ ہو تو اس کے دل میں اپنے بچے کے لئے پیار کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ اس سانپ پر ٹوٹ پڑتی ہے اور اس کو پکڑ کر پرے پھینک دیتی ہے۔اور اس بات کی پرواہ نہیں کرتی کہ یہ مجھے ڈس لے گا وہ تو بچے کو بچانا چاہتی ہے اگر اس کا بچہ دریا میں گر جائے اور ڈوب رہا ہو تو باوجود اس علم کے کہ اسے تیر نا نہیں آتا وہ بے چاری اپنے بچے کی محبت کے جوش میں دریا میں چھلانگ لگادیتی ہے اور خود بھی اپنے بچے کے ساتھ ڈوب مرتی ہے۔مگر یہی ماں جس کے اپنے بچے کے لئے جذبات کا یہ حال ہوتا ہے جب احمدی ہو گئی تو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے اور آپ نے اسلام کا جو حسین چہرہ پیش کیا ہے اس کے لئے اپنے بچوں کی پرواہ نہیں کی۔بعض احمدیت کی قدرو قیمت سے غافل ہیں لیکن اب ہم اس زمانے میں داخل ہو گئے ہیں کہ جہاں باہر سے آ کر احمدیت میں داخل ہونے والے بھی اور ایک طبقہ پیدائشی احمدیوں کا بھی اس خزانے کی قدر و قیمت کو جانتا اور پہچانتا ہے لیکن پیدائشی احمد یوں میں سے ایک حصہ ایسا بھی ہے جو اس کی قدر و قیمت کو نہیں پہچانتا اور یہ ہمارے لئے فکر پیدا کرنے والی بات ہے۔دنیا پر ایک اندھیرا چھایا ہوا تھا۔اس اندھیرے میں اللہ تعالیٰ نے ایک نور پیدا کیا۔دیکھنے والی نگاہ نے اندھیروں کو غائب ہوتے دیکھا۔زمین و آسمان کو منور ہوتے دیکھا۔ایسا حسن نظر آیا کہ اس کے بعد ہر حسین چیز میں ان کو اس