مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 171 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 171

171 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم اور قرآن کریم کے نزدیک یہ اس کی آخری منزل نہیں ہے۔مثلاً ایک شخص اسلام لا یا متقی بن گیا۔لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ اس کی آخری منزل نہیں ہے روحانی ترقیات کے بے شمار دروازے اس کے لئے کھلے ہیں۔وہ آگے بڑھے۔پہلے ایک دروازے میں پھر دوسرے میں پھر تیسرے میں پھر چوتھے میں بے انتہاء دروازوں میں داخل ہوتا ہوا میرے قریب سے قریب ہوتا چلا جائے اس واسطے فرمایا ھدی للمتقین“۔ا۔ہر مقام پر وہ اپنے آپ کو متقی ا پاتا ہے۔پہلے سے بڑا انعام پاتا ہے۔لیکن وہاں اس کے کان میں یہ آواز آتی ہے ھدی للمتقین، متقی بننے کا راستہ کھلا ہے۔ایک ہدایت دے دی ہے۔ایک راستہ بتا دیا ہے تو اس پر چلو۔پھر وہ آگے جا کر سمجھتا ہے کہ یہ میری منزل ہے پھر اور آواز آتی ہے ھدی للمتقین“ پھر وہ اور آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس حقیقی اخلاق صرف اسلام کی ہدایت کی روشنی میں پیدا ہو سکتے ہیں اسلام کے باہر پیدا نہیں ہوسکتے اور حقیقی اخلاق کا منبع بھی تو حید خالص ہے اور حقیقی اخلاق ہی کے نتیجہ میں انسان کی علمی زندگی میں تو حید حقیقی قائم ہوتی ہے۔میری آج کی اس ساری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم کا حقیقی مقصد جو ہے وہ صرف بنی نوع انسان میں تو حید خالص کا قیام ہے اور باقی تمام احکام جو ہماری زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ تو حید حقیقی کے قیام کے لئے ذرائع اور وسائل ہیں۔ہر حکم جو ہے وہ تو حید خالص کو مضبوط کرتا ہے اور اس کو ایک رنگ میں قائم کر دیتا ہے پھر دوسرے رنگ میں قائم کر دیتا ہے پھر تو حید تیسرے رنگ میں قائم ہوتی ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ احکام قرآن سات سو کے قریب ہیں۔اگر تم ایک حکم کو بھی جانتے بوجھتے ہوئے توڑو تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کسی قدر محروم ہو جاؤ گے پھر وہ متقی نہ رہا۔اس نے تو حید خالص کے چکر کو مضبوطی سے نہیں پکڑا اگر اس نے پکڑا ہوتا تو ہر حکم کی اتباع کرتا۔پس خدام الاحمدیہ کو چوکس ہو کر اپنی زندگی کے ایام گزار نے چاہئیں اگر ہم اگلی نسل کی صحیح تربیت نہ کر سکیں تو پھر خود اللہ تعالیٰ کے وعدے تو پورے ہوں گے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں یہ بشارت دی ہے کہ آپ کی جماعت کے ذریعہ یعنی آپ کی جماعت کو اللہ تعالیٰ اپنا آلہ کار بنا کر دنیا میں اسلام کو غالب کرے گا۔اسلام ساری دنیا میں غالب تو ہوگا۔اسلام کے غالب ہونے میں آج دنیا کی کوئی طاقت حارج نہیں ہوسکتی۔یہ راستہ جو کھلا ہے اس کو دنیا کی کوئی طاقت بند نہیں کرسکتی۔اگر ہماری نسلیں جس کا ایک حصہ اس وقت میرے سامنے بیٹھا ہوا ہے کمزوری دکھا ئیں تو اللہ تعالیٰ ایک اور نسل پیدا کرے گا۔جو قربانیاں دینے والی جو حقیقی معنی میں توحید خالص پر قائم اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں اور اس کی ذات میں کامل عرفان اور بصیرت سے فنا ہو کر اس سے ایک نئی زندگی پانے والی ہوگی اور دنیا کی حقیقی خادم خیرخواہ اور رغم گسار ہوگی۔اور وہ اس نیت سے یہ سب کچھ کرنے والی ہوگی کہ دنیا اپنے رب کو پہچاننے لگے اور دنیا اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور دنیا اپنے رب کے قرب کی راہوں کو تلاش کرے اور پھر ان پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کو حاصل کرے۔