مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 172
دومشعل قل راه جلد دوم عہد یداران کے لئے لمحہ فکریہ فرموده ۱۹۶۹ء 172 پس ہمارے اندر جو کمزور ہیں ہمیں ان کی فکر ہے۔ہم ان کو کاٹ کر باہر پھینکنا نہیں چاہتے وہ بیمار ہیں مردہ نہیں۔اور خدام کو بحیثیت جسم اپنے بیمار اور درد کرنے والے عضو یا حصہ کی فکر کرنی چاہئے۔میں جب دیکھتا ہوں کہ ہماری بہت سی مجلس آرام سے بیٹھ جاتی ہیں حالانکہ ان میں سے بہت سے ایسے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اس اجتماعی جسم میں اتنی شدید میں اٹھنی چاہئے کہ وہ رات کوسو نہ سکیں۔پس ذمہ دار عہدیداروں کے لئے لحہ فکر یہ ہے انہیں اس غفلت کو دور کرنا چاہئے۔ایک انگلی کے ایک چھوٹے سے حصے مثلاً ناخن کے ایک کونے کی شدید درد انسان کو تڑپا دیتی ہے اسے سونے نہیں دیتی۔اس درد کا احساس جو ہر ایک کو زیادہ ہوتا ہے مگر اپنے چند بھائیوں کو روحانی بیماری کا احساس نہیں ہوتا۔یہ بڑی ہی قابل شرم بات ہے۔ہم نے پیار کے ساتھ اپنے نیک نمونے کے ساتھ حسن اخلاق کے ساتھ ان کی روح کو بیدار کر کے ان کی بیماری کو دور کرنے کی کوشش کرنی ہے پھر تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے دعا ہی کرنی چاہئے کہ آسمان سے حکم نازل ہو اور ان کی اصلاح ہو جائے۔لیکن ان کی اس حالت سے ہم غافل نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ نے تدبیر اور دعا کا جو طریق ہمیں بتایا ہے اس طریق کو ہم چھوڑ نہیں سکتے کوشش کریں گے لیکن تو کل اللہ تعالیٰ ہی پر کریں گے۔اگر ہم ایک جسم میں اور یقیناً ہم ایک جسم ہیں اگر اس جسم نے بحیثیت جسم آگے ہی آگے بڑھ کر ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے ( اور اس کے ذمہ یہ فرض لگایا گیا ہے کہ وہ غالب کرے تو پھر چھوٹی سے چھوٹی درد اور تکلیف اور بیماری اور زخم اور کسی چھوٹے جوڑ کا مثلاً اتر جانا یعنی اپنی جگہ سے ہل جانا۔( جو شخص تو حید کے مقام سے ہل جاتا ہے اگر وہ شرک خفی ہے تو ہم یہی مثال دے سکتے ہیں کہ اس کی انگلی کا ایک جوڑ اپنی جگہ سے ہل گیا ) تو حید کو چھوڑ کر انسان کی بھی یہی حالت ہو جاتی ہے۔پس ایک مضبوط جسم کی ضرورت ہے۔ظاہر ہے کہ اس سے ایک بچہ بھی انکار نہیں کرسکتا کہ جو کام ہمارے سپرد ہے وہ سہل اور آسان تو نہیں بلکہ بڑا ہی مشکل ہے بہت بڑا بوجھ ہے جو ہمارے کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔بشارت کے ساتھ کہ بوجھ ڈالا گیا ہے کندھے کمزور ہیں جس حد تک تم اس کو اٹھا سکتے ہو اٹھا ؤ پھر ہم اوپر سے خود اٹھا لیں گے۔کئی دفعہ بچہ ضد کرتا ہے کہ بوجھل گٹھڑی میں نے اٹھانی ہے ( جن دوستوں کے گھر بچے ہیں ان کے سامنے یہ نظارہ آتا رہتا ہے) بچہ کہتا ہے کہ یہ میں نے اٹھانی ہے مگر وزن ہوتا ہے اس کا ہمیں سیر۔اگر اس کی گردن پر رکھ دی جائے تو اس کی گردن ٹوٹ جائے۔اس کو خوش کرنے کے لئے ماں کیا کرتی ہے کہ اوپر سے خود پکڑ لیتی ہے اور وہ گھڑی بچے کے سر سے صرف مس کر رہی ہوتی ہے اور بچہ یہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ یہ بوجھ میں نے اٹھایا ہوا ہے۔دراصل ہماری بھی یہی حالت ہے۔ہمارے کندھوں پر جو بوجھ ڈالا گیا ہے اگر ہم پر وہ سارا بوجھ ہوتا تو ہم اس کے نیچے آ کر پس جاتے اور قیمہ قیمہ بن جاتے اور ہمارے ذات کو ہوا میں اڑا کر لئے پھرتیں۔اتنا بڑا بوجھ ہے لیکن ہم پر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا ہم سے پیار کا سلوک کرنے کا اردہ کیا اور اس بوجھ کو اس کے دست قدرت کے اوپر سے پکڑ لیا اور ہمیں یہ فرمایا کہ دیکھو میں نے کتنابڑا بو جھ تم پر ڈال رکھا ہے۔تم بڑے پیارے بندے ہو تم آگے