مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 143
143 فرموده ۱۹۶۹ء دو مشعل راه جلد دوم یورپ کے اس سفر کے دوران ایک چھوٹا سا لطیفہ ہوا جسے میں نے پہلے بھی کئی بار سنایا ہے۔مجھے اس کے بیان کرنے سے بڑا لطف آتا ہے۔ہمارے قافلے میں سے کسی نے وہاں کی ایک احمدی بہن سے یہ سوال کیا کہ مسجد میں اگلی صفوں میں مرد ہوتے ہیں اور پچھلی صفوں میں عورتیں۔ان کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے۔تم نے سکرین کا کیوں انتظام نہیں کیا تو اس بہن نے بڑی بے تکلفی سے جواب دیا کہ اس لئے انتظام نہیں کہ محمد علی اللہ کی مسجد میں عورتوں کے لئے سکرین کا کوئی انتظام نہیں تھا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی انہوں نے بڑا غور کیا ہے اس لئے وہاں ہمارے مبلغوں کا کام آسان نہیں کیونکہ ان کا ایسے لوگوں سے واسطہ ہے جنہوں نے جو کچھ سیکھا ہے پورے تدبر اور غور اور تحقیق کر کے مختلف قرآنی آیات اور حضرت نبی اکرم ﷺ کے ارشادات کو سامنے رکھ کر سیکھا اور سمجھا ہے۔پس اگر وہ کہیں تھوڑی سی بھی غلطی کریں تو انہیں سمجھانا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔انہیں بڑے دلائل دے کر اور احادیث پیش کر کے اور بہت سارے حوالے سنا کر سمجھایا جاسکتا ہے۔مبلغ کا صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ یہاں تم نے غلطی کی ہے کیونکہ انہوں نے علی وجہ البصیرت اسلام کو قبول کیا ہے اور علی وجہ البصیرت اسلام پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔یہ نہیں کہ یہ کہ کر انہیں روک دیا جائے کہ یہ غلط ہے اسے نہ کرو۔اسلام نے بے تحاشہ عقلی دلائل دیتے ہیں۔لیکن عقلی دلائل خواہ کتنے ہی زبر دست کیوں نہ ہوں انسان کے دماغ کو اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسا بنایا ہے کہ اس کے مقابلہ میں غلط اور سوفسطائی سا خیال اپنے دل میں جما لیتا ہے اور پھر اس قسم کی غلط دلیلیں وہ اپنے حق میں پیش کر دیتا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ کا انکار کیا تو سینکڑوں ہزاروں دلائل غلط تھے لیکن چونکہ دماغ اس دلیل کو مانتا تھا اس لئے انہوں نے دلائل بنالئے اس کے۔تو جب تک کچھ اور چیزیں نہ ہوں تو وہ اسلام کے حسن واحسان کے نظارے نہیں دیکھ سکتا۔عبد السلام میڈیسن صاحب کا ذکر خیر پس ایک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے محاورے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بار باران فقروں کو دہرایا ہے یعنی آسمانی تائیدات اور آسمانی نشانات اور ان ہی کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی محبت کے نظارے ظاہر ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں اس قرب اور محبت کے جلووں کو دیکھنے کے لئے بہت زیادہ مجاہدہ کرنا پڑتا ہے مگر وہ لوگ شاید اس لئے کہ باہر سے اسلام میں داخل ہوتے ہیں آج احمدی مسلمان ہوتے ہیں یا ہوتی ہیں تو دو ہفتے کے بعد بعض کو کچی خوا ہیں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ہمارے عبد السلام میڈیسن جنہوں نے قرآن کریم کا ڈینش زبان میں ترجمہ کیا ہے۔اور یہ ترجمہ وہاں بڑا مقبول بھی ہوا ہے۔انہوں نے اس پر بڑی محنت کی ہے۔ان کے اخلاص کا یہ حال ہے کہ انہوں نے جب قرآن کریم کا ڈینیش میں ترجمہ کر لیا تو چھاپنے کے لئے وہاں کی ایک کمپنی کو دیا۔اس کمپنی نے عبد السلام میڈیسن کو جور انکلٹی دی وہ انہوں نے ساری کی ساری لا کر چندہ میں دے دی اور کہنے لگے کہ میں اسے ذاتی استعمال میں نہیں لانا چاہتا۔اسے اسلام کی تبلیغ پر خرچ کیا جائے۔حالانکہ انہوں نے