مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 137 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 137

137 فرموده ۱۹۶۹ء د مشعل راه جلد دوم نہیں تھا۔چنانچہ اس شخص نے اپنے بیٹے سے کہا دیکھو دوست اس قسم کے ہوتے ہیں۔پس پہلی دوستی تمہیں بنگالی طلبہ کے ساتھ قائم کرنی ہے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے ہیں پھر وہ خود ہی آپ سے دلچسپی لینے لگیں گے۔ویسے اس بات کو یاد رکھیں کہ آپ طالب علم ہیں۔آپ ہمارے مبلغ نہیں ہیں (ابھی نہیں شاید کسی وقت آپ میں سے بہتوں کو مبلغ بننے کی توفیق مل جائے) لیکن اس وقت تو آپ کی حیثیت ایک طالب علم کی ہے۔پس آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کرنے اور اپنی طرف کھینچے کا ایک اور حربہ بھی دیا ہے اور یہ حسن اخلاق اور حسن سلوک کا حربہ ہے اور یہ دونوں پہلو بہ پہلو اور متوازن شکل میں چل رہے ہیں اور ایک دوسرے میں مدغم بھی ہو جاتے ہیں۔اخلاق کے بعض مظاہرے حسن سلوک بن جاتے ہیں اور حسن سلوک کے بعض مظاہرے حسن اخلاق کی غمازی کر رہے ہوتے ہیں۔احمدی کے اوصاف پس پہلا کام یہ ہے کہ آپ ان سے دوستی کریں اور اپنے اخلاق سے ان پر یہ اثر ڈالیں۔ان کے ذہن پر یہ بات نقش کریں کہ ایک احمدی بڑا اچھا دوست ہوتا ہے کسی کی غیبت نہیں کرتا۔کسی کی بدظنی نہیں کرتا۔کسی پر اتہام نہیں لگا تا اپنی زبان سے کسی کو دکھ نہیں پہنچا تا۔دنیا میں اس چیز کی اس وقت بڑی ضرورت ہے۔کوئی بھی کسی کا حقیقی دوست نہیں ہے۔سب مطلب پرست ہیں۔دوستیاں دو قسموں میں منقسم کی جاسکتی ہیں۔ایک مطلب پرستی کے لیے دوستی ہوتی ہے یعنی کسی خاص کام کے لئے دوستی کی جاتی ہے اور دوسری قسم یہ ہے کہ دوستی کے ذریعہ انسان کا مطلب پورا ہو جاتا ہے۔دوستی کرتے وقت کوئی reservation ( ریزرویشن ) یا برا خیال دل میں نہیں ہوتا۔جو صحیح معنے میں دوست ہے وہ وقت پر بہر حال کام آئے گا لیکن مطلب کے لیے دوستی پیدا کرنے کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ جب مطلب پورا ہو گیا تو دوستی ختم ہو گئی۔مثلاً ہماری جماعت کے ساتھ بہت سے بڑے بڑے آدمیوں کی اسی قسم کی دوستی ہے جس وقت الیکشن کا وقت قریب ہوتا ہے تو ان کا پیار یوں ابل کر باہر آ جاتا ہے کہ جی ہمارے آپ سے یہ تعلقات ہیں، ہمارے آپ سے وہ تعلقات ہیں۔اس لئے آپ ہمیں ووٹ دیں اور جس وقت الیکشن ہو جاتے ہیں تو پھر اگلے الیکشن تک سوئے رہتے ہیں۔کبھی خبر تک نہیں لیتے اور کسی تعلق کا اظہار نہیں ہور ہا ہوتا۔آپ نے دوسرے طلبہ کے ساتھ اس قسم کی دوستی نہیں کرنی بلکہ خالص دوستی کرنی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوستی کرنے کی ایک قوت عطا کی ہے۔اور دوست بنانے کی انسان کو اہلیت بخشی گئی ہے۔دوست بنانے کا فن بہت فائدہ مند ہے۔نیت بری نہیں ہونی چاہیے۔میں نے اپنی زندگی میں غیر احد یوں میں دو ایک دوست بڑے اچھے دیکھے ہیں۔لیکن سینکڑوں سے دوستیاں ہوئیں پہلے گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر آکسفورڈ کی طالب علمی کے زمانہ میں۔لیکن ان کو پتہ ہی نہیں کہ دوستانہ تعلقات ہوتے کیا ہیں۔مگر بعض ایسے بھی ہیں کہ جو دوستی کے معیار پر پورے اترتے رہے ہیں۔مثلاً ایک ظفر الاحسن صاحب ہیں۔یہ آکسفورڈ میں میرے ساتھ صرف ایک سال