مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 138
د فرموده ۱۹۶۹ء 138 و مشعل راه جلد دوم رہے ہیں کیونکہ پھر وہ یہاں واپس آگئے تھے۔ان کی فطرتی نیکی کا پہلی بار مجھے اس طرح احساس ہوا کہ ایک دفعہ ہمارے Cousin کے سمن آگئے۔بات یہ ہوئی کہ یہ شکار کھیلنے کے لئے کلو دھرم سالے کی طرف چلے گئے تھے وہاں اتفاق سے ایک کنگ کمشنر بھی شکار کھیلنے آیا ہوا تھا۔یہ کمشنر شکار کے کسی معاملے میں ہمارے Cousin کے ساتھ ناراض ہو گیا۔کیونکہ انکی وجہ سے اس کا شکار خراب ہو گیا تھا ظفر الاحسن صاحب کلو دھرم سالہ کے علاقہ کے ڈپٹی کمشنر لگے ہوئے تھے۔یہ کمشنر انہیں جاتے ہوئے ہمارے Cousin کے متعلق یہ کہہ گیا کہ انہوں نے یہ یہ بے ضابطگیاں کی ہیں اس لئے انہیں ضرور سزا دینی ہے۔اب یہ کمشنر انگریز اور بڑے دھڑلے والا ، اور یہ ڈی سی۔ایسے افسر کے لئے اس صورت میں تو بڑی مشکل پیدا ہو جاتی ہے۔اگر وہ یہ سمجھ بھی رہا ہو کہ یہ ناحق فیصلہ کر رہا ہوں تب بھی وہ ڈر کے مارے بے انصافی کر جائے گا۔چنانچہ ہمارے یہ Cousin میرے پاس آئے۔غالباً ۱۹۳۹ء کی بات ہے اور کہنے لگے اس طرح سمن آیا ہے۔یہ وہاں کا ڈی سی لگا ہوا ہے آپ کے ساتھ اکٹھا رہا ہے آپ ضرور کچھ کریں۔میں نے کہا ہاں میرے ساتھ اکٹھا ضرور رہا ہے میری اس کے ساتھ بڑی دوستی تھی لیکن میں نے اسے کبھی آزمایا نہیں۔میں لکھ دیتا ہوں لیکن پتہ نہیں کہ کیسا آدمی نکلے۔خیر میرا دو فقروں کا مختصر سا خط لے کر یہ چلے گئے اور کورٹ ہی میں جہاں ان کی پیشی تھی وہاں ان کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔انہوں نے خط کو دیکھا نیچے میرا نام پڑھا اور کہنے لگے آپ تشریف لے جائیں۔آپ کی یہاں ضرورت نہیں اور جو لوکل شکاری بیچ میں ملوث تھا اسے دس روپے جرمانہ کیا اور اسے بھی چھوڑ دیا۔پھر مجھے پتہ لگا کہ یہ آدمی تو بڑا نیک فطرت ہے۔گو میں اس کی بعض عادتوں سے مشفق نہیں ہوں لیکن اس کے ساتھ جو دوستانہ تعلق ہے وہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ایک دن جب کہ وہ پی آئی اے سے سکرین آؤٹ ہو چکے ہوئے تھے اور پھر تو اس محکمے میں ان کی ویسے ہی بے رحمی اور بے عزتی ہو چکی ہوئی تھی۔میرے چھوٹے بھائی انور نے ہوائی جہاز سے ضروری جانا تھا اور بلنگ نہیں کروائی ہوئی تھی۔جب ائیر پورٹ پر پہنچے تو انہوں نے بتایا کہ کوئی جگہ نہیں۔بڑے پریشان ہوئے۔کام بڑا ضروری تھا اور جانے کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔اس پریشانی کے عالم میں کھڑے تھے کہ وہاں سے ظفر الاحسن صاحب کا گزر ہوا۔نہ جان نہ پہچان۔شکل دیکھ کر شبہ پیدا ہوا کہ شاید اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔وہ ان سے کہنے لگے کہ کیا فلاں کے ساتھ آپ کی کوئی رشتہ داری ہے۔یہ کہنے لگے ہاں میں ان کا چھوٹا بھائی ہوں۔پھر کہنے لگے اتنی پریشانی کی وجہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح مجھے ضروری کام ہیں۔میں نے غلطی کی۔پہلے سے بلنگ نہیں کروائی تھی۔مجھے ضروری جانا ہے اور جگہ نہیں مل رہی۔وہ کہنے لگے میں لے کر دیتا ہوں۔باوجود اس کے کہ اس محکمہ سے نکلے ہوئے تھے اور اس لحاظ سے بڑی ذلت کا سامنا تھا۔مگر وہ گئے اور پتہ نہیں کیا جا کر تاریں ہلائیں کہ انہیں ٹکٹ مل گیا۔انہوں نے اپنے بچے کو ایک دفعہ ہمارے کسی دوست کے کام پر بھیجا اور اس رنگ میں اپنے بیٹے کی