مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 128 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 128

دومشعل دوم فرموده ۱۹۶۹ء 128 خطبه جمعه فرموده ۴ را پریل ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک ربوه سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- خدام الاحمدیہ کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آئندہ اشاعت اسلام کا بڑا بوجھ آپ کے کندھوں پر پڑنے والا ہے کوئی ایک طفل یا کوئی ایک نو جوان بھی ایسا نہیں ہونا چاہئے جو احمدیت کے مقصد سے غافل رہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی سے غافل رہے جو ہمارے رب نے ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالی ہے۔گو ہر عمر میں انسان کے ساتھ موت لگی ہوئی ہے لیکن عام حالات میں ایک ساٹھ سالہ ادھیڑ عمر کے انسان کی طبعی عمر اس نو جو ان کی عمر سے کم ہوتی ہے جو ابھی سولہ یا سترہ سال کا ہے۔آپ اپنے روحانی بنک یا خزانہ (اگر یہ لفظ اس جگہ کے لئے استعمال ہو جہاں خزانہ رکھا جاتا ہے ) کو اگر آپ چاہیں تو بہت زیادہ بھر سکتے ہیں لمبی عمر ہے۔جس شخص نے کئی فصلیں کاٹنی ہوں اس کے گھر میں دانے بہت زیادہ ہوں گے اگر وہ دانے جمع کرے اور اگر دانے بیچے تو مال زیادہ ہوگا۔لیکن جس شخص نے ایک ہی فصل کاٹنی ہو یا دو فصلیں کاٹنی ہوں تو اگر اس کا پیٹ بھر جائے تو وہ راضی ہو جاتا ہے۔لیکن اس دنیا میں تو پیٹ بھر جاتا ہے مگر اخروی زندگی کی جو نعماء ہیں ان کے متعلق کوئی شخص یہ سوچ نہیں سکتا کہ بے شک وہ نعماء ہمیں تھوڑی مقدار میں مل جائیں زیادہ کے ہم امید وار نہیں۔ان نعمتوں کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تو فیق کے مطابق کوشش ہونی چاہئے۔پس خدام الاحمدیہ کی تنظیم اپنے طور پر بحیثیت خدام الاحمدیہ اس بات کا جائزہ لے اور نگرانی کرے کہ کوئی خادم اور طفل ایسا نہ رہے جو قرآن کریم نہ جانتا ہو یا مزید علم حاصل کرنے کی کوشش نہ کر رہا ہو۔لجنہ اماءاللہ کا فرض اسی طرح لجنہ اماءاللہ کا یہ فرض ہے۔کہ وہ اس بات کی نگرانی کرے کہ ہر جگہ لجنہ اماءاللہ کی مہرات اور ناصرات الاحمدیہ ان لوگوں کی نگرانی میں جن کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے قرآن کریم پڑھ رہی ہیں یا نہیں۔میں لجنہ اماءاللہ پر یہ ذمہ داری عائد نہیں کر رہا کہ وہ سب کو قرآن کریم پڑھائیں۔کیونکہ اس سے تو باہم تصادم ہو جائے گا۔کیونکہ میں نے کہا ہے کہ ہر ایک موصی دو اور افراد کو قرآن کریم پڑھائے اگر مثلاً اس کی بیوی قرآن کریم پڑھنا نہیں جانتی تو پہلے اپنی بیوی کو ہی پڑھائے گا۔یا میں نے یہ ہدایت دی ہے کہ ہر رکن انصار اللہ اس ماحول میں جس ماحول کا وہ رائی ہے قرآن کریم کی تعلیم کو جاری کرے۔لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپ یہ دیکھیں کہ جن پر قرآن کریم پڑھانے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے (جہاں تک مستورات اور ناصرات کا تعلق