مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 127 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 127

127 فرموده ۱۹۶۸ء دو مشعل راه جلد دوم جائیں گے اس وقت ہم بھی خوش ہوں گے اور وہ بھی خوش ہوں گے۔فرمایا کہ دنیا جاہل اور کم علم ہے۔ہم اس سے ناراض نہیں کیونکہ ہم ظالم کے دشمن نہیں بلکہ اس کے ظلم کے دشمن ہیں۔آخر میں حضور نے خدام سے فرمایا کہ میرا سلام اللہ آپ تک پہنچائے گا۔کیونکہ زبانی سلام پہنچنے کا تو کوئی فائدہ نہیں۔اللہ تعالیٰ اگر میری سلامتی کی دعا کو آپ کے حق میں قبول کرے اور آپ کو سلامتی سے یہاں رکھے، سلامتی سے گھروں کو واپس لے جائے اور وہاں بھی سلامتی سے رکھے تو اس میں فائدہ ہے۔میری دعا ہے اور یہی میری دعا ہے کہ اللہ میرے سلام کو آپ تک پہنچائے اور آپ کے ساتھ رکھے، میری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔اس کے بعد حضور نے ایک پر سوز اجتماعی دعا کرائی جس میں مقام اجتماع میں حاضر جملہ خدام، اطفال و زائرین شامل ہوئے۔دعا میں سوز و گداز اور در دو الحاح کا یہ عالم تھا کہ رقت قلب سے ہر آنکھ اشکبار اور پرنم تھی۔دعا کے بعد حضور تقریباً پانچ کے بعد دو پہر مقام اجتماع سے تشریف لے گئے اور جملہ خدام کو واپس جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔( بحواله روزنامه الفضل ۲۲ اکتوبر ۱۹۶۸ء)