مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 10 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 10

فرموده ۱۹۶۶ء 10 د دمشعل را تل راه جلد دوم جو ہم خلوص نیت کے ساتھ اس کی راہ میں یا اس کے کہنے کے مطابق بجالاتے ہیں۔ایک جاہل انسان جو اپنے خدا کو پہچانتا نہیں اور اس کی شناخت اُسے حاصل نہیں۔سمجھتا ہے کہ میں اپنی کوشش اور اپنے زور سے کوئی کام کر لیتا ہوں۔لیکن اس کا خیال درست نہیں۔مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص اپنے کمرہ میں پاؤں سے جوتی اتارے بیٹھا ہے۔اُس نے نماز یا کسی اور کام کے لئے باہر جانا ہے۔سامنے اس کی جوتی پڑی ہے۔پھر ایک جسم میں طاقت ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ باہر آجکل بڑی شدید گرمی پڑ رہی ہے۔اگر میں جوتی پہن کر جاؤں تو میں تمازت سے بچ جاؤں گا۔اور ایسے حقیر اور چھوٹے سے عمل سے میں فائدہ اٹھاؤں گا۔لیکن یہ اس کی غلطی ہے کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت اس موقع پر اس کے لئے جلوہ گر نہ ہوگی وہ اس چھوٹے سے کام کے کرنے کا بھی اہل نہیں ہو سکتا ہے۔کہ وہ جوتی جس کو پہننے کا وہ ارادہ کر رہا ہے اس کو فائدہ اور آرام پہنچانے کی بجائے موت یا تکلیف کا باعث بن جائے بسا اوقات ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک انسان کبر اور غرور کی وجہ سے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک معمولی اور حقیر سا کام ہے میں اسے اپنی طاقت اور زور سے بجالا سکتا ہوں۔خدا تعالیٰ کو یادر کھے بغیر جوتی میں پاؤں ڈالتا ہے۔وہاں ایک سانپ بیٹھا ہوتا ہے یا اس کے اندر کوئی بچھو چھپا ہوا ہوتا ہے۔وہ اس کو ڈس لیتا ہے اور یا تو وہ اس کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے یا اسے شدید درد اور تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔اب دیکھو یہ کتنا معمولی اور حقیر سافعل ہے۔ہم کمرے سے باہر جانے کے لئے جوتی پہننا چاہتے ہیں۔لیکن اسلام ہمیں یہ کہتا ہے کہ اس کام کے کرنے سے پہلے بھی تم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لو۔تا تمہارے لئے خدا تعالیٰ کی صفات رحمان اور رحیم کا جلوہ ظاہر ہو۔اگر تم ایسا نہ کرو گے تو ممکن ہے کہ اس جوتی کا پہنا تمہارے لئے ہلاکت یا تکلیف کا باعث بن جائے۔چھوٹے چھوٹے کام کے لئے بھی دعا کر لینی چاہئے بعض لوگ جو اللہ تعالیٰ کی کوکچھ شناخت رکھتے ہیں۔لیکن پوری شناخت اور عرفان نہیں رکھتے۔وہ بڑے بڑے اور اہم کاموں کے لئے تو دعا کرتے ہیں اور ان کے لئے دعا کوضروری سمجھتے ہیں۔لیکن چھوٹے چھوٹے اور معمولی کاموں کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے دعا کی کیا ضرورت ہے۔انہیں ہم اپنی طاقت اپنے زور اور اپنے وسائل سے بجالا سکتے ہیں لیکن اسلام ہمیں یہ ہدایت دیتا ہے۔کہ تم اس غلطی میں کبھی نہ پڑنا۔اگر جوتی کے ایک تسمہ کی بھی تمہیں ضرورت ہے۔جو ایک آنہ یا دو آنہ میں بازار سے مل جاتا ہے۔تو تم یہ سمجھو کہ جب تک خدا تعالی کا اذن اور منشاء نہ ہو۔تمہیں وہ تسمہ بھی نہیں مل سکتا۔اس لئے تم جوتی کا وہ تسمہ بھی اپنے رب سے مانگو اور اس کے لئے اس سے دعا کرو۔ایک قصہ ہے کہ ایک شخص تھا۔جس کو نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد یاد نہیں تھا۔کہ ہر کام سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت طلب کیا کرو۔اس کی جیب میں پیسے تھے۔اور ان کی وجہ سے وہ اترار با