مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 11 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 11

11 فرموده ۱۹۶۶ء دد د و مشعل راه جلد دوم تھا۔ایک دفعہ اسے ایک گدھا خریدنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔قریب شہر میں منڈی لگی ہوئی تھی۔چنانچہ وہ گدھا خریدنے کے لئے گھر سے نکلا لیکن گھر سے باہر نکلتے ہوئے اس نے خدا تعالیٰ کو یاد نہ کیا۔نہ اس نے خدا تعالیٰ سے دعا کی۔وہ شہر کی طرف جارہا تھا۔کہ رستہ میں اس کا ایک دوست ملا۔اس نے اس سے دریافت کیا۔تم اس وقت کدھر جا رہے ہو اس نے کہا میں منڈی سے ایک گدھا خرید نے جار رہا ہوں۔منڈی میں بہت سے گدھے ہوں گے ان میں سے میں اپنی پسند کا ایک گدھا خرید لوں گا۔ایک دوست نے کہا۔بھئی تم نے یہ فقرے بڑے آرام سے کہہ دیئے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ سے دعا نہیں کی۔تم خدا تعالیٰ سے دعا کرو۔کہ وہ تمہیں تمہاری پسند کا اور برکت والا گدھا مہیا کر دے۔اس جاہل آدمی نے جواب دیا۔مجھے دعا کی کیا ضرورت ہے۔روپے میری جیب میں ہیں اور گدھا منڈی میں موجود ہے۔اور پھر میری مرضی بھی گدھا خریدنے کی ہے۔سوئیں منڈی کی طرف جارہا ہوں۔وہاں سے میں اپنی پسند کا ایک گدھا خرید لوں گا اس کے لئے خدا تعالیٰ سے دعا کرنے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے یا انشاء اللہ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔بہر حال اس نے ایک بڑہانکی کبر و غرور کا مظاہرہ کیا۔خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں ایک رنگ میں اباء کا پہلو اختیار کیا۔منڈیوں میں ایسے لوگوں کی تلاش میں اور ان کو سبق دینے کے لئے جیب کترے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ جب وہ شخص منڈی گیا تو ایک جیب کترے نے اس کی جیب کنترلی اور اس کا سارا روپیہ نکال لیا اور اُسے اس کا علم بھی نہ ہوا۔اس نے منڈی میں گھوم پھر کر اپنی پسند کا ایک گدھا منتخب کیا۔وہ بڑا خوش تھا کہ اسے اس کی پسند کا گدھا مل گیا ہے اس نے سودا چکا یا۔گدھے کا مالک بھی اس کے ہاتھ وہ گدھا فروخت کرنے پر تیار ہو گیا لیکن جب اس نے رقم نکالنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا۔تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔رقم چوری ہو چکی تھی۔اس نے اپنا سر نیچے گرایا اور بغیر گدھا خریدے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا۔رستہ میں اس کا دوست ملا۔تو وہ کہنے لگا۔میاں تم منڈی سے گدھا خرید نے گئے تھے لیکن خالی ہاتھ واپس آرہے ہو۔کیا بات ہے۔اس نے جواب دیا۔انشاء اللہ میں منڈی سے گدھا خریدنے گیا تھا۔انشاء اللہ ایک جیب کترے نے میری جیب کتر لی۔انشاء اللہ میری ساری رقم چوری ہوگئی۔انشاء اللہ میں اپنی پسند کا گدھا نہیں خرید سکا۔اس لئے انشاء اللہ میں بغیر گدھا خریدے اپنے گھر واپس جارہا ہوں۔اس واقعہ میں بتایا گیا ہے کہ اس شخص نے چونکہ کبر اور غرور کا مظاہرہ کیا تھا۔اور اپنے اس کبر اور غرور کی وجہ سے اس نے خدا تعالیٰ سے دعا اور مدد و نصرت مانگنے کی ضرورت نہ بھی تھی۔اس نے خیال کیا تھا۔کہ جب روپے میرے پاس ہیں۔اور گدھے منڈی میں موجود ہیں تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے۔خدا تعالیٰ سے دعا مانگنے اور اس کی مدد و نصرت چاہنے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اسے ایک سبق سکھا دیا۔اور اگر یہ واقعہ سچا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس شخص کی یہ حقیری ناکامی اُسے آئندہ کے لئے عبودیت کے مقام پر قائم رکھنے والی ثابت ہوئی ہو۔