مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 8
دومشعل دوم 4 فرموده ۱۹۶۶ء 8 احمدی نوجوان اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کریں حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا ارشاد:- مشرقی افریقہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے حالات کا یہی تقاضا ہے کہ ہمارے احمدی نوجوان زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنی زندگیاں وقف کریں اور یہاں مرکز میں رہ کر تربیت حاصل کریں اور اس کے بعد بیرون پاکستان تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کریں۔اس وقت ایک تو ہمارا طریق جامعہ احمدیہ میں داخل کر کے باقاعدہ مربی بنانے کا ہے لیکن جس تعداد میں نوجوان جامعہ احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں اور ایک لمبے عرصے تک تعلیم ختم کر کے وہ با قاعدہ مربی بنتے ہیں اسے دیکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہماری ضرورت کے ہزارویں حصہ کو بھی پورا نہیں کرتے۔۔۔۔۔اس وقت اسلام خطرہ میں ہے اور ہمیں ہر مصیبت اور تکلیف برداشت کر کے بھی محمد رسول اللہ کے جھنڈے کو دنیا میں بلند کرنا ہے تو حید باری تعالیٰ کو دنیا میں قائم کرنا ہے پس ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اسلام کی ضرورت کی طرف متوجہ ہوں اور اپنی اُخروی زندگی کی خاطر اور اس دنیا میں اپنی اور اپنی نسلوں کی بھلائی کی خاطر اپنی زندگی دکھ اور تکلیف میں گزارنے کے لئے تیار ہوں تا ساری دنیا حلقہ بگوش اسلام ہو جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی غرض پوری ہو کہ ساری دنیا خدائے واحد کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے“۔الفضل ۸ جون ۱۹۶۶ء)