مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 65 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 65

65 فرمودہ ۱۹۶۷ء د و مشعل راه جلد دوم دد م المومنین نے پالا۔میں اس وقت سے ان کے پاس رہا جب کہ میں بالکل چھوٹی عمر کا تھا مجھے اس وقت کوئی ہوش نہیں تھی۔آپ غریب اور یتیم بچوں کو اپنے پاس رکھ کر ان کی پرورش کیا کرتی تھیں۔جب آپ کو کسی گھر کے متعلق یہ پتہ لگتا کہ وہاں کوئی لاوارث بچہ ہے تو آپ ان کو بلا لیتی تھی اور اپنے پاس رکھتی تھیں۔اسے پڑھاتی تھیں۔سارا خرچ اپنے پاس سے کرتی تھیں۔اسے اپنے پاس بٹھا کر کھانا کھلایا کرتی تھیں۔آپ جانتے ہیں کہ حضرت ام المومنین کا کیا مقام تھا۔جماعت کی ہر عورت آپ کے لئے جان دینے کے لئے تیار تھی اور کوئی نہیں چاہتی تھی کہ آپ کو ذرا بھی تکلیف پہنچے لیکن میں خود گواہ ہوں۔میری آنکھوں نے خود دیکھا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی محبت میں اور اسلام کی تعلیم کے عشق میں یہ کیا کرتی تھیں کہ جب آپ آٹھ نو یا دس سال کے بچوں کو اپنے پاس رکھتیں تو بعض دفعہ خود انہیں اپنے ہاتھ سے نہلا تیں۔میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ بعض دفعہ آپ ایک گھر کے ایک سے زائد بچوں کو اپنے پاس بلا لیتیں اور وہ بہن بھائی سب مل کر آپ کے پاس رہتے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ وہ بچی جس کو اپنے گھر میں کسی نے پوچھا نہیں تھا اور سر میں اس کے جوئیں پڑی ہوئی ہوتیں۔آپ بیٹھ جاتیں اور اپنے ہاتھ سے ساری جوئیں نکالتیں۔پھر اس کو نہالتیں نئے کپڑے بنا کر اس کو دیتیں اور انہیں خود پہنا تیں۔پھر اپنے ساتھ بٹھا کر دستر خوان پر کھانا کھلاتیں اور ہمیں بھی سبق دیتیں کہ سارے لوگ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔اسلام نے انسان کی عزت کو قائم کیا ہے۔ہرایک سے محبت اور پیار کرنا ہے۔یہ نہیں دیکھنا کہ کوئی امیر ہے یا غریب، بڑے اثر اور رسوخ والا ہے یا یتیم بچہ ہے۔سارے خدا کی نگاہ میں ایک جیسے ہیں اور سارے خدا کو پیارے ہیں اور اسلام نے ہمیں ہر ایک سے پیار کرنا سکھایا ہے۔غرض آپ اپنے عمل سے ہمیں ہر وقت یہ سبق دیا کرتی تھیں اور ہمارے کانوں میں یہ باتیں پڑتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کو ساری دنیا میں غالب کرے گا اور ہم اپنی اس عمر میں حیران ہوتے تھے جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے ہم جانتے تھے کہ غالب ضرور ہوں گے۔یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے لیکن ہوں گے کیسے؟ یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی۔پھر جب ہم بڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی توفیق دی ہم نے اپنے دین کی خدمت کی اور وہ خدمت اللہ تعالیٰ نے ہم سے لی اور اب ہم آپ سے مخاطب ہو کر یہ باتیں کر رہے ہیں۔اس وقت کا اور آج کا بڑا فرق ہے۔اس وقت افریقہ میں شاید کوئی اکا دکا احمدی ہو اور یورپ میں دو چار آدمی مسلمان ہوں گے لیکن اب کئی ہزار میل دور افریقہ میں اتنی بڑی بڑی جماعتیں قائم ہو چکی ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے نازل ہوئے اور اسلام کو وہاں غالب کر دیا۔وہ لوگ بددین اور دہریہ اور درختوں کی پوجا کرنے والے اور سانپوں کی پرستش کرنے والے تھے۔ان کا کوئی عقیدہ نہیں تھا۔وہ ننگے پھرتے تھے۔ان کی کوئی تہذیب نہیں تھی۔جماعت احمدیہ کی کوششوں سے ( گو وہ نہایت حقیر ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے ان میں برکت ڈالی ) وہ اسلام لائے اور ان کو اللہ تعالیٰ نے تہذیب سکھائی عقل دی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ڈالا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے پیار کریں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع کریں۔آپ پر درود بھیجیں اور اسلام