مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 507 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 507

507 فرموده ۱۹۷۹ ء دو مشعل راه جلد د دوم اور حقیر ہے اس زندگی سے جو اسلامی تعلیم پرعمل کرکے وہ اسلامی معاشرہ میں گزار سکتے ہیں۔اس ضمن میں حضور نے بعض ایسے اخلاق اور اوصاف کا ذکر کیا جن پر اسلامی معاشرہ کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ان میں سے بالخصوص حضور نے راست گفتاری عدل و انصاف‘ ایفائے عہد دوسروں کے جذبات کے احترام عیوب کی اشاعت سے اجتناب غیبت سے پر ہیز اور دیانت وامانت سے متعلق اسلامی تعلیم اور اس کی باریکیوں اور حکمتوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اُن کے نتیجہ میں قائم ہونے والے معاشرہ کے حسن کو بالوضاحت بیاں فرمایا۔حضور نے فرمایا کہ اسلامی معاشرہ اتنا حسین معاشرہ ہے کہ اگر آپ اپنے آپ کو اسلامی تعلیم کا مجسم عملی نمونہ بنالیں اور اسطرح اپنے وجودوں میں دوسروں کو اسلامی معاشرہ کی جھلک دکھانے میں کامیاب ہو جائیں تو پھر دنیا والے خود بخود داس سے متاثر ہوکر اسلام اور اس کے حسین معاشرے کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔حضور نے طلباء کو خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ اپنے کو محض بچہ نہ سمجھیں بلکہ ایسا بچہ سمجھیں جس نے اسلام کی لازوال اور بے مثال تعلیم کا عملی نمونہ پیش کر کے دنیا کو اسلام کی طرف لانا اور ساری دنیا میں اسلامی معاشرہ کو قائم کرنا ہے۔خدا کرے کہ ہم اپنی زندگیوں میں روئے زمین پر وہ حسین اسلامی معاشرہ قائم ہوتے دیکھ لیں جس کی بدولت انسانوں کے لئے یہ دنیا جنت بن جائے اور اگلے جہان میں بھی انہیں جنت ملے۔اس پر معارف اور بصیرت افروز خطاب کے بعد جو ایک گھنٹہ تک جاری رہا حضور نے دعا کرائی جس میں جملہ طلباء شریک ہوئے اور اس طرح خدام الاحمدیہ کی ۲۵ دیس تربیتی کلاس اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں پر نہایت کامیابی اور خیر و خوبی سے اختتام پذیر ہوئی۔فالحمد للہ علی ذلک (الفضل ۳ مئی ۱۹۷۹ء)