مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 482 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 482

دو مشعل را راه جلد دوم بس ٹھیک ہے۔چھلانگیں مارو۔فرموده ۱۹۷۸ء 482 ہم اس لئے خوش نہیں کہ ہماری جیبیں خدا تعالیٰ نے نوٹوں سے بھر دی ہیں جو چوری بھی ہو جاتے ہیں۔اور گم بھی ہو جاتے ہیں جن سے ہم غلط چیزیں بھی خرید لیتے ہیں۔بعض دفعہ ہم سڑی ہوئی چیز میں خرید لیتے ہیں اور بیمار ہو جاتے ہیں۔نوٹ کا تو کوئی قصور نہیں اسے تو آپ جہاں خرچ کرنا چاہیں چلا جائے گا۔اس میں تو عقل نہیں۔لیکن جو خوشی ہمارے خدا نے ہمیں پہنچائی ہے وہ تو یہ ہے کہ اسلام کی ترو تازگی اور خوشحالی اور اس کے غلبہ کے دن آگئے ہیں اس لئے ہم خوش ہیں اور جب تک ساری دنیا اسلام کے اندر داخل نہیں ہو جاتی ہماری یہ خوشیاں اسی طرح رہیں گی اور جو بشارت ہے وہ عمل میں آہستہ آہستہ بدل رہی ہے۔ساری دنیا نے مسلمان ہونا ہے لیکن ایک دن میں ساری دنیا نے مسلمان نہیں ہونا۔اب ایک محتاط اندازہ کے مطابق جماعت احمد یہ اپنی کوششوں سے مغربی افریقہ میں ۵ لاکھ سے زیادہ عیسائیوں کو مسلمان بنا چکی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس پر دنیا حیران ہو رہی ہے۔پس خدا تعالیٰ نے یہ جو کہا تھا کہ یہ غلبہ اسلام کے دن ہیں اور مہدی کو اس غرض کے لئے بھیجا ہے اور جماعت احمدیہ کو اس کام کے لئے قائم کیا ہے۔خدا کا یہ وعدہ پورا ہونا شروع ہو گیا ہے۔اسلام کے غلبہ کے آثار دکھائی دینے لگ گئے ہیں۔ایک وہ وقت تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی مسیحیت اور مہدویت سے چند سال پہلے عیسائیوں نے یہ اعلان کرنے شروع کر دیے تھے کہ وہ ساری دنیا پر چھا جائیں گے۔ان کا ایک خطرناک اعلان یہ تھا کہ نعوذ باللہ وہ وقت قریب ہے جب خانہ کعبہ پر خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا لہرائے گا اور ایک پادری نے تو یہاں تک کہد یا تھا کہ ہندوستان میں اگر کوئی شخص یہ خواہش کرے گا کہ مرنے سے پہلے کسی مسلمان کا چہرہ تو دیکھ لے تو اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔گو یا ہندوستان میں کوئی ایک مسلمان بھی نہیں رہے گا۔سب کے سب عیسائی ہو جائیں گے ان دعووں کی گونج کے اندر خدا کے اس شیر نے اور محمدعلی اللہ کے اس روحانی فرزند نے کھڑے ہو کر یہ دعوی کیا کہ میں تم پر غالب آؤں گا خدا کے نام اور محمد ﷺ کے کلمہ کو بلند کرتے ہوئے اور اب یہ حال ہے کہ میں نے اپنے حالیہ دورہ کیورپ میں پہلی دفعہ بتایا کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے پانچ لاکھ سے زیادہ عیسائی صرف مغربی افریقہ میں مسلمان بناچکے ہیں۔ولا فخر۔اس میں ہمارا کوئی فخر نہیں۔خدا تعالیٰ کی مہربانی ہے تو جب میں یہ کہتا تھا تو لوگوں کے منہ سے بات نہیں نکلتی تھی۔وہ تو اس گھمنڈ میں تھے کہ ہندوستان میں کوئی مسلمان نہیں رہے گا اور خانہ کعبہ پر نعوذ باللہ مسیح کی الوہیت یعنی شرک کا جھنڈا لہرانے میں وہ کامیاب ہو جائیں گے یعنی جو کام محمد ا ہے نے اپنے ہاتھ سے کیا تھا اور خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا اور اسے ہمیشہ کے لئے شرک سے پاک کر دیا تھا۔اس مشن میں عیسائی محمد ﷺ کو نا کام کردیں گے اور شرک یعنی الوہیت مسیح کا جھنڈا وہاں لہرائیں گے۔صلى الله صلى الله خدا تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق اور بشارتوں کے مطابق مسیح اور مہدی کو امت محمدیہ میں پیدا کر دیا۔