مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 460 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 460

دومشعل دوم فرمودہ ۱۹۷۷ء 460 اس کو کچھ ملتا ہے تو یہ محمد کے افاضہ روحانیہ کے طفیل ملتا ہے اور اس حد تک وہ آپ کا خلیفہ اور نائب ہے کیونکہ آگے پھر اس سے لوگوں کو فیض ملتا ہے۔کیونکہ محمد ہے تو ہ عظیم ہستی ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے لعلک باخع نفسك الا يكونوا مومنین کہ تیرا کوئی دشمن ہی نہیں۔جولوگ تیرے بد ترین دشمن ہیں ان کیلئے بھی تیری یہ حالت ہے کہ وہ تو اپنی جان دینے کیلئے تیار ہے کہ کسی طرح وہ ایمان لے آئیں اور خد تعالیٰ کے قہر اور اس کے غضب سے محفوظ ہو جائیں۔اس لئے جو شخص محمد رسول اللہ اللہ کے افاضہ روحانیہ سے کچھ حاصل کرتا ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ صرف اپنی جگہ کھڑا رہے اور اس خیر کو جو اسے حاصل ہوئی ہے اپنے تک محدود رکھے بلکہ وہ اسے آگے پہنچاتا ہے اور اس میں دوسروں کو بھی اپنے ساتھ حصہ دار بناتا ہے اور افاضہ خیر اس لئے ہوا کہ اس نے ایک حد تک ایک دائرہ میں محمد ﷺ کو اسوہ حسنہ بنایا۔وہ اسے اپنے پاس کیسے رکھ سکتا ہے۔صلى الله جنگ خندق کے موقع پر کھانے کی بڑی کمی ہو گئی تھی اس لئے آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ بھوک سے بے حال ہو گئے تھے۔بزرگوں کا یہ تجربہ ہے کہ اگر بھوک کی تکلیف ہو یعنی پیٹ میں کچھ نہ ہو، پیٹ خالی ہو تو اس سے جو پیٹ کو تکلیف ہوتی ہے اس کو دور کرنے کی ایک ترکیب یہ بھی ہے کہ پیٹ پر پتھر رکھ کر اس کو کسی کپڑے سے باندھ لیں۔کپڑے سے بندھا ہوا وہ پتھر معدے کو دبادے گا تو بھوک کا احساس زیادہ شدت سے نہیں رہے گا۔غرض بھوک کی جب یہ حالت تھی تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! اب تو حد ہوگئی۔ہماری تکلیف انتہاء کو پہنچ گئی۔کھانا ملتا نہیں۔کفار کی فوج نے ہمارا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ہمارے کھانے پینے کی چیزیں باہر سے آتی تھیں ان کے رستے بند ہو گئے ہیں۔وہ اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر کہنے لگا یہ دیکھیں! یہ حال ہو گیا ہے۔اب ہمیں پتھر باندھنے پڑ گئے ہیں۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو پھر یہ بھی دیکھو۔آپ نے اپنے پیٹ پر سے کپڑا اٹھایا تو اس کے ایک پتھر کے مقابلے میں آپ نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے تھے۔اس حالت میں ایک صحابی جن کے پاس گھر میں تھوڑا سا آنا تھا اور ایک بکر وٹا تھا انہوں نے بکروٹا ذبح کیا اور صاف کرنے کے بعد بیوی سے کہا تم کھانا تیار کرو میں محمد ﷺ کے کان میں جا کر کہتا ہوں کہ میں نے آپ کی دعوت کی ہے کھانا تیار ہے آ کر کھالیں۔وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس کو یہ پتہ تھا کہ دس پندرہ آدمیوں سے زیادہ یہ کھانا پورا نہیں ہوسکتا۔وہ آہستہ سے کہنے لگا یا رسول اللہ ہمارے گھر میں کچھ کھانا تیار ہے حضور آکر کھانا کھا لیں۔اسے پتہ تھا کہ کئی دنوں کے فاقے ہیں۔جب آپ نے یہ سنا تو آپ کا اسوہ حسنہ دیکھیں کہ آپ نے یہ اعلان کر دیا کہ اے لوگو! فلاں شخص نے ہماری دعوت کی ہے چلو چل کر کھانا کھا لیں۔اس حالت میں پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے ہیں آپ اکیلے نہیں جاتے بلکہ باقی لوگوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔میں آپ کو بتارہا ہوں کہ جس نے محمد یا اللہ کے فیض سے کچھ حاصل کیا ہے اس کے متعلق یہ سمجھ لیں کہ وہ اپنے تک اسے محدود نہیں رکھ سکتا۔اس نے بہر حال اپنے ساتھ اور وں کو بھی حصہ دار بنانا ہے۔چنانچہ جب آنحضرت امیہ نے اعلان فرمایا تو بہت سارے لوگ جو جا سکتے تھے وہ تیار ہو گئے۔آپ نے اس صحابی سے کہا واپس اپنے گھر جاؤ اور بیوی سے کہو جب تک میں نہ آؤں اس وقت تک سالن برتنوں صلى الله