مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 459
459 فرمودہ ۱۹۷۷ ء د مشعل راه جلد دوم نیابت میں ہم پہنچارہے ہیں اور اسی نائب کو خلیفہ کہتے ہیں۔یہ عام معنے ہیں اور اس معنی میں امت محمدیہ میں ہر وہ شخص جس نے محمد رسول الله الا اللہ کے افاضہ رحانیہ کے ذریعہ کوئی خیر حاصل کی یا کوئی فائدہ حاصل کیا اور اسے لوگوں تک پہنچایا وہ اپنے محدود دائرے میں نبی کریم ﷺ کا خلیفہ اور نائب ہے اور ساری امت محمدیہ نبی کریم اللہ سے فیض حاصل کر رہی ہے سوائے منافقوں کے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے ہمارے ساتھ لگے ہوئے ہیں یا ان لوگوں کے جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے فی قلوبھم مرض کہ ان کے دل بیمار ہیں یا ان لوگوں کے جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم تو ان کو بلندیوں کی طرف لے جانا چاہتے تھے لیکن اخلد الی الارض وہ ازمین کی طرف جھک گئے۔اس فیض کی دوحد بندیاں ہیں۔ایک تو انسان کی اپنی استطاعت ہے یعنی خدا تعالیٰ نے کسی کو جتنی طاقت نبی اکرم سے فیوض حاصل کرنے کی دی ہے اس طاقت کے مطابق ہی وہ فیوض حاصل کر سکتا ہے۔مثلا کسی کو صدیق بننے کی طاقت دی وہ صدیق بن سکتا ہے۔کسی کو شہید بننے کی طاقت دی وہ شہید بن سکتا ہے۔کسی کو صالح بننے کی طاقت دی وہ صالح بن سکتا ہے۔جس آدمی کو صرف صالح بننے کی طاقت دی گئی ہے وہ صالح کی بجائے شہید نہیں بن سکتا جس کو صرف شہید بنے کی طاقت دی گئی ہے وہ صدیق نہیں بن سکتا۔ہر شخص اپنی خدا دا د استعداد اور صلاحیت کے مطابق دنیا میں بھی ترقی کرتا ہے اور روحانیت میں بھی ترقی کرتا ہے۔یہ ایک واضح مسئلہ ہے۔تاہم یہ جو صلاحتیں اور قوتیں ہیں ان میں بڑا فرق ہے اور یہ فرق کیوں ہے؟ یہ ایک علیحدہ سوال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر بھی بڑی سیر حاصل بحث کی ہے لیکن اس مضمون سے میری تقریر کا تعلق نہیں۔پس ایک یہ حد بندی ہے کہ ہر شخص کا جو دائرہ استعداد ہے اس دائرے سے وہ باہر قدم نہیں رکھ سکتا۔یہ ناممکنات میں سے ہے دوسرے یہ کہ انسانی ترقیات کیلئے جو دائرہ استعداد ہے اس کے اندر اس کو مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔اگر ایک شخص کو صدیق بننے کی طاقتیں خدا نے دی تھیں اپنے فضل اور رحمت کے ساتھ لیکن اس نے دین کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور بجائے صدیق بننے کے وہ چور بن گیا تو اس نے کچھ بھی نہ حاصل کیا۔لیکن اگر وہ صدیق نہیں بنا، شہید بھی نہیں بنا، صالح بن گیا تو دائرہ استعداد اس کا ایسا تھا کہ وہ صدیق بن سکتا تھا لیکن اس کی اپنی تدبیر اور مجاہدہ اس کے مطابق نہیں تھا اس کی اپنی کوشش، اس کی اپنی لگن، اس کے دل میں یہ جلن کے اے خدا جتنا میری جھولی میں آسکتا ہے وہ مجھے دیدے۔رب اني لما انزلت الى من خير فقیر ہر خیر جو تو مجھے دے سکتا ہے دے دے۔خدا تعالیٰ کو تو پتہ ہے کہ کس قسم کی استعداد میں نے دی ہے۔پس یہ وہ حدود ہیں جن کے اندر رہتے ہوئے انسان ترقی کر سکتا ہے۔وہ اپنے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتا۔دائرہ استعداد کے اندر اپنے ایثار ، اپنے اخلاص، خدا تعالیٰ سے اپنی محبت اور محمد اللہ سے عشق کے مطابق اس کی صلاحیت اور قوت کا جو دائرہ ہے وہ اس کی انتہاء کو پہنچ سکتا ہے اور جو شخص بھی اس کوشش اور مجاہدہ میں دعاؤں کے ذریعہ سے اور خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اور عاجزانہ اور متضرعانہ دعائیں کر کے خدا تعالیٰ سے خیر مانگتا ہے اور پھر