مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 449 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 449

449 فرمودہ ۱۹۷۷ء دوسرا مطالبہ۔بیجہتی دو مشعل راه جلد دوم دد دوم : اس انقلاب عظیم کا اپنے دوسرے دور میں داخل ہو جانے کی وجہ سے دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ دینِ اسلام کے غلبہ کے لئے اور نوع انسانی کو امت واحدہ بنانے کے لئے جو منصوبے تیار کئے جائیں اور جو تدابیر اختیار کی جائیں ان میں بھجہتی پائی جائے اور اس کی ضرورت خصوصاً اس لئے بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جہاں انسان پر روحانی ترقیات کے بے انتہا دروازے کھولے ہیں وہاں اس کو شیطانی وساوس اور شیطانی رخنوں سے حفاظت نہیں دی۔انسان کو قرآن کریم کے ذریعہ کامل ہدایت دی لیکن ساتھ ہی اس کو آزادی دی اور فرمایا اما شاکر او اما كفورا چاہو تو خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن کر اسلامی تعلیم پر عمل کرو اور اگر چاہو اپنی مرضی سے کفران نعمت کرو اور غلط راہوں پر پڑھ جاؤ ایک دوسری جگہ فر ما یا حق آ گیا ہے فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر دوسری طرف قرآن کریم نے شیطان کے متعلق تمثیلی زبان میں ذکر کیا ہے۔میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ شیطان کیا ہے اور وہ کس طرح انسان پر حملے کرتا ہے۔یہ بحث میرے مضمون سے تعلق نہیں رکھتی میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کہتا ہے شیطان کو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے لیکن ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ وہ جتنا مرضی زور لگالے جو خدا کے بندے ہیں وہ تو خدا کے بندے ہی رہیں گے۔اب چونکہ ساری دنیا کو ساری نوع انسانی کوامت واحدہ بنانا ہے اور امت واحدہ بنا کر خدا تعالیٰ کے قدموں میں جمع کرنا ہے اس لئے عقلاً بھی اس وقت شیطان کا حملہ اتناز بردست ہونا چاہیئے کہ اس سے پہلے اتناز بر دست حملہ بھی نہ ہوا ہو چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اسی قانونِ قدیم کے لحاظ سے خدا نے اپنے پاک نبیوں کی معرفت یہ خبر دی ہے کہ جب آدم کے وقت سے چھ ہزار برس قریب الاختتام ہو جائیں گے تو زمین پر بڑی تاریکی پھیل جائے گی اور گناہوں کا سیلاب بڑے زور سے بہنے لگے گا اور خدا کی محبت دلوں میں بہت کم اور کالعدم ہو جائے گی تب خدا محض آسمان سے بغیر زمینی اسباب کے آدم کی طرح اپنی طرف سے روحانی طور پر ایک شخص میں سچائی اور محبت اور معرفت کی روح پھونکے گا اور وہ میسج بھی کہلائے گا کیونکہ خدا اپنے ہاتھ سے اس کی روح پر عطر ملے گا اور وہ وعدہ کا مسیح جس کو دوسرے لفظوں میں خدا کی کتابوں میں مسیح موعود بھی کہا گیا ہے شیطان کے مقابل پر کھڑا کیا جائے گا اور شیطانی لشکر اور مسیح میں یہ آخری جنگ ہوگا اور شیطان اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ اور تمام ذریت کے ساتھ اور تمام تدبیروں کے ساتھ اس دن اس روحانی جنگ کے لئے تیار ہو کر آئے گا۔اور دنیا میں شر اور خیر میں کبھی ایسی لڑائی نہیں ہوئی ہوگی جیسے کہ اس دن ہوگی کیونکہ اس دن شیطان کے مکائد اور شیطانی علوم انتہاء تک پہنچ جائیں گے اور جن تمام طریقوں سے شیطان گمراہ کر سکتا ہے وہ تمام طریق اس دن مہیا ہو جائیں گے تب سخت لڑائی کے بعد جو ایک روحانی لڑائی ہے خدا کے مسیح کو