مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 443
443 فرمودہ ۱۹۷۷ء انقلاب ہے۔د و مشعل راه جلد دوم دد کتب حضرت مسیح موعود کے مطالعہ کی اہمیت پس یہ ہے ایک احمدی کا مقام اور اس کو سمجھنے کیلئے اور اس کو یا در کھنے کیلئے پہلی اور آخری ضروری چیز یہ ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو کثرت سے پڑھا کریں۔کیونکہ انہوں نے ہی ہمیں یہ باتیں بتائی ہیں۔ہمیں یہ بتانے والا کون ہے؟ کہ یہ آخری زمانہ ہے اور وہ انقلاب عظیم جو محمد ﷺ کی بعثت سے شروع ہوا تھا وہ اس زمانہ میں اپنے عروج کو پہنچنے والا ہے اور نوع انسان امت واحدہ اور ایک خاندان بننے والی ہے۔ہمیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا ہے اور کسی نے نہیں بتایا۔اور پھر اس مقصد کے حصول کیلئے جس چیز کی ضرورت تھی۔علمی لحاظ سے یا اخلاقی لحاظ سے یا روحانی لحاظ سے یا مجاہدہ کے لحاظ سے یا ایثار کے لحاظ سے یا قربانی کے لحاظ سے اس کا علم بھی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جو کچھ بھی لکھا یا کہا ہے وہ قرآن عظیم کی تفسیر ہے یا محمد اللہ کے ارشادات کی شرح ہے اس لئے کہ قرآن کریم ایک کامل اور مکمل ہدایت ہے اور دنیا میں کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا اور نہ جن سکتی ہے کہ جو دنیا میں آکر یہ اعلان کرے کہ میں قرآن کریم سے یہ چیز زائد تمہیں بتا رہا ہوں جو قرآن کریم نے نہیں بتائی تھی اور تمہارے لئے ضروری ہے۔یا یہ چیز اس میں سے نکال رہا ہوں اس کی اب ضرورت نہیں رہی۔قرآن کریم میں ہے اور پہلے وقتوں میں اس کی ضرورت ہوگی لیکن اب اس کی ضرورت نہیں۔قرآن کریم میں کوئی ناسخ اور منسوخ نہیں۔کوئی آیت قرآن کریم کی منسوخ نہیں۔کوئی لفظ قرآن کریم کا منسوخ نہیں۔کوئی حرف قرآن کریم کا منسوخ نہیں کوئی زیر زبر اور پیش اور کوئی نقطہ قرآن کریم کا منسوخ نہیں۔یہ تعلیم ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ہمیں دی ہے۔آج کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ، آج کی ذمہ داریوں کو نباہنے کیلئے اور یہ انقلاب عظیم جو اپنے عروج کی طرف حرکت میں آ گیا ہے اس حرکت کا ایک حصہ بنے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا پڑ ضروری ہے۔ایک بات میں بتادوں اور میں اپنے تجربے سے کہتا ہوں اور علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جوتفسیر قرآنی ہمارے ہاتھ میں دی ہے وہ اتنی عظیم ہے کہ آپ کی کوئی کتاب لے لو چھوٹی ہو یا بڑی اور اس کو سو دفعہ پڑھو سو دفعہ ہی آپ کو اس میں سے نئے معانی نظر آجائیں گے۔یہ اس قسم کی تفسیر ہے۔آپ کی کتب عام کتابوں کی طرح نہیں بلکہ خدا سے سیکھی ہیں۔قرآن کریم کی یہ تیسر محمد اللہ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور آپ پر فدا ہو کر فنافی الرسول کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو خدا نے سکھائی اور خدا خود آپ کا معلم بن گیا۔اور عظیم ہے آپ کا کلام اور اس میں اتنا پیار ہے ایک طرف اپنے رب کریم کے ساتھ اور دوسری طرف محمد کے ساتھ کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے اور بات بھی درست ہے کیونکہ اتناعظیم انقلاب بپا کرنے والی