مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 444 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 444

د دمشعل دوم فرمودہ ۱۹۷۷ء 444 ہستی یعنی محمدعا ہے کہ تیرہ سو سال سے بلکہ اب چودہ سو سال ہو گئے۔ایک انقلابی حرکت شروع ہوئی لیکن اس پر بڑے حملے ہوئے اور اس تعلیم پر ہزار ہا اعتراضات ہوئے۔عیسائیت کو چیلنج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ عیسائیوں کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ ہر سال تم کئی ہزار اعتراض اسلام پر کر دیتے ہو اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو قیامت تک پتہ نہیں لگ سکتا کہ عیسائیت کچی ہے یا اسلام۔اس لئے آؤ فیصلہ کرلیں میں تمہیں ایک گر بتاتا ہوں ایک فیصلے کا طریق بتاتا ہوں اور وہ بڑا عظیم ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم چیز آپ کو سکھائی۔آپ نے فرمایا کہ ساری دنیا کے پادری سر جوڑیں اور فیصلہ کریں کہ اسلام پر سب سے زیادہ وزنی اعتراض کونسا پڑتا ہے۔وہ سوچ کر اس نتیجہ پر پہنچیں کہ اس اعتراض سے زیادہ وزنی اور کوئی اعتراض اسلام پر نہیں۔اور جس کے متعلق تم نے فیصلہ کیا ہو کہ یہ اسلام پر سب سے وزنی اعتراض ہے اس کو میرے سامنے پیش کرو۔میں اس اعتراض کو رد کروں گا اور جس جگہ تم نے اعتراض کیا ہے اس جگہ سے اسلام کا حسن نکال کر تمہارے سامنے پیش کروں گا کہ یہ جائے اعتراض نہیں ہے بلکہ بہت عظیم تعلیم اس کے اندر پوشیدہ ہے جس پر تم اعتراض کر رہے ہو۔اور اگر میں ایسا کردوں اور جس اعتراض کے متعلق تم سب سر جوڑ کر اس فیصلہ پر پہنچے ہو کہ اس سے زیادہ وزنی اور کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اگر اس کو میں باطل قرار دے دوں تو جو اعتراضات خود تمہارے نزدیک اس سے کم وزن والے ہیں وہ خود بخو دور ہو جائیں گے اور لمبی بحث کی ضرورت نہیں ہوگی۔آج سے قریبا ستر سال پہلے عیسائیت کو یہ چیلنج دیا گیا تھا لیکن انہوں نے یہ چیلنج قبول نہیں کیا۔۶۷ء میں ڈنمارک میں مجھے عیسائی پادریوں کے دو گروہ ملے تھے۔میں نے ان کو کہا کہ اتنا لمبا زمانہ گزرا تمہیں یہ چیلنج دیا گیا تھا تم نے اب بھی اعتراض کرنے نہیں چھوڑے اسلام پر۔حالانکہ تمہیں یہ کہا گیا تھا کہ ایک دفعہ فیصلہ کر لو کہ اسلام سچا ہے یا عیسائیت کچی ہے۔اور میں نے انہیں کہا کہ تم یہ بہانہ نہیں کر سکتے کہ تم یہ کہ دو کہ جس نے پہیلنج دیا تھا اس کا توبر المبازمانہ گزر ۱۹۹۸ء میں وصال ہو گیا تھا۔اگر آج ہم چیلنج قبول کر لیں تو کس کو جا کر کہیں کہ ہم نے چیلنج قبول کر لیا ہے۔ہم سے آکر مقابلہ کرو اس لئے کہ میں نائب مہدی ومسیح کی حیثیت سے اور خلیفہ اسیح کی حیثیت سے تمہیں کہتا ہوں کہ تم چیلنج قبول کرو میں تمہارے اعتراض کا جواب دوں گا۔یہ ۶۷ ء کی بات ہے اس کو بھی دس سال ہو گئے۔لیکن انہوں نے چیلنج قبول نہیں کیا اور اپنی خفت مٹانے کیلئے انہوں نے کہا یہ کہ :- (ڈنمارک کا ایک صحافی ہے دو سال ہوئے یہاں بھی آیا تھا۔اس نے مجھے بتایا کہ پادری وہاں کہتے ہیں کہ ) وہ تو ہمارے ساتھ بڑے تیز ہو گئے تھے۔میں نے اس کو کہا کہ میں تیز نہیں ہوا تھا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ میں نے انہیں کہا تھا کہ لمبا زمانہ ہوا یہ چیلنج دیا گیا تھا تم اس کو قبول کرو اور مقابلہ کرتے ہیں وہ حیران ہو کر کہنے لگا اچھا یہ بات ہے تو میں جا کر اپنے اخبار میں ان کی خبر لیتا ہوں۔پتہ نہیں خبر ملی یا نہیں لی۔بہر حال اس کو یہ بات سمجھ آگئی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة