مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 434
فرمودہ ۱۹۷۶ء 434 د دمشعل را ل راه جلد دوم موعود کو مبعوث کیا ہے اس پر خدا تعالیٰ نے وحی اور الہام کے ذریعہ یہ ظاہر کیا اور یہ گواہی دی کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے لوگ مسلمان ہیں۔لہذا ہمارا یہ ایمان ہے اور ہم اپنے اس ایمان پر علی وجہ البصیرت قائم ہیں کہ خدا نے ہمیں مسلمان قرار دیا ہے۔بیشک ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کی قومی اسمبلی نے ہمیں صرف قانونی یا دستوری اغراض کیلئے مسلمان نہیں سمجھا لیکن ایک مسلمان اپنے اسلام کیلئے کسی قانون یا دستور کا محتاج نہیں ہے۔اس کی تو ساری کوشش دعاؤں اور مجاہدات کے ساتھ یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح وہ خدا کی نگاہ میں مسلمان قرار پائے۔اس کے نزدیک تو زندگی کا مزا ہی اس میں ہے کہ اسے خدا کا پیار حاصل ہو جائے اور جسے خدا کا پیار حاصل ہو جائے اور وہ خدا کی نگاہ میں منتقی اور مسلمان قرار پائے اسے بھلا اور کیا چاہیے۔آخر میں حضور نے فرمایا پس کسی تلخی کی وجہ سے بنی نوع انسان کی بے لوث خدمت کے جذبہ میں ہرگز کوئی کمی نہ آنے پائے۔تمہارا فرض ہے کہ پہلے کی طرح اب بھی پوری بشاشت ،شرح صدر اور وقار کے ساتھ اور والہانہ جذبہ کے ماتحت بلا امتیاز ہر انسان کی خدمت کرو۔تمہیں یہ خیال تک نہیں آنا چاہیے کہ لوگوں نے تمہیں کیا کہا یا کیا سمجھا۔یاد رکھو کوئی ہمارا دشمن نہیں ہے۔ہم نے کسی سے نہیں لڑنا البتہ باطل خیالات کو ہم مٹانا چاہتے ہیں اور یہ دشمنی نہیں بلکہ سراسر خیر خواہی ہے۔پس جس حد تک بھی اللہ تعالیٰ نے تمہیں طاقت دی ہے تم بلا امتیا ز سب کی خدمت کرنے کی کوشش کرو، حسن عمل کا اعلیٰ نمونہ پیش کرو اور اپنے تئیں حقیقی معنوں میں خادم سمجھو۔اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو سمجھ لو کہ تم نے اپنے مقصد کو پا لیا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔اس کے بعد حضور نے پر سوز اجتماعی دعا کرائی اور پھر پونے دس بجے کے قریب واپس تشریف لے گئے۔حضور کے تشریف لے جانے کے بعد پروگرام کے مطابق اجتماع کی کارروائی دن بھر جاری رہی۔(الفضل ۱۹، اپریل ۱۹۷۶ء)