مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 394
394 فرموده ۱۹۷۳ء دومشعل راه جلد دوم ۲ نومبر ۱۹۷۳، کوسید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث نے خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے اکتیسویں ۳۱ سالانہ اجتماع میں جو اختتامی خطاب فرمایا تھا اس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورہ آل عمران کی آیت ااا کا یہ حصہ پڑھا:- اور پھر فرمایا:- كنتم خيرامة اخرجت للناس مجلس خدام الاحمدیہ کا یہ اجتماع اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ بہت ہی خوبیاں اکٹھی ہو جانے کی وجہ سے بڑا ہی کامیاب رہا ہے۔الحمد لل ثم الحمد للہ۔سائیکل چلانے کی تحریک میں نے ایک تو ماضی قریب میں سائیکل چلانے کی ترغیب دی تھی۔اس کا ذکر میں نے اپنی افتتاحی تقریر میں بھی کیا تھا کہ اس اجتماع پر بیرون ربوہ سے آنے والے کئی خدام سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے۔چنانچہ ایسے خدام ایک طرف کراچی سے سائیکلوں پر روانہ ہوئے اور دوسری طرف راولپنڈی اور پشاور سے نہیں آئے ان کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہیئے تھی) سیالکوٹ سے، غرض چاروں طرف سے سائیکلوں پر یہاں پہنچے ہیں۔بعض خدام جو دور سے آنے والے ہیں مثلاً کراچی اور تھر پارکر وغیرہ سے انہوں نے لگا تار ۸۰ اور ۱۰۰ میل روزانہ کے حساب سے سائیکلنگ کی اور اس طرح اس بڑے کام کی ایک خوش کن ابتداء ہو گئی ہے جس کی طرف میں نے نو جوانان احمدیت کو متوجہ کیا تھا۔علاوہ ازیں میں نے اس سال مجلس شوری کے موقع پر جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ خیر امت کی صفات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ سائیکلوں پر ونفوذ بھیج کر اپنے ضلع کے ہر گاؤں اور ہر قصبے سے ملاپ کریں۔پہلے سال کا جو کام تھا وہ اکتوبر کے آخر تک ختم ہو جانا تھا۔میں نے شوریٰ پر یہ بھی اعلان کیا تھا کہ جو ضلع اس عرصہ میں دوسروں کے مقابلے میں اول آئے گا اس کو میں ایک ہزار روپے انعام دوں گا۔اس تحریک کی بنیادی غرض یہ تحریک اپنے اندر بہت سے مفید پہلو رکھتی ہے۔اور اس کی بنیادی غرض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مضمر ہے جس کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے فرمایا کہ تم خیر امت ہو اس لئے بھی کہ