مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 390
390 فرموده ۱۹۷۳ء ساری دنیا سے آگے نکلنا ہے دومشعل راه جلد دوم تم نے سب سے آگے نکلنا ہے! نکلتا ہے! نکلنا ہے! اور اس کے لئے تمہیں تیاری کرنا ہو گی۔ورنہ خدا تعالیٰ تمہیں منافق کہے گا۔لو ارادوا الخروج لا عدوا له عدة میں خدا نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص میری آواز پر لبیک کہتا ہے لیکن اس کے لئے ان قربانیوں کے لئے تیار نہیں ہوتا جن کا میں مطالبہ کرتا ہوں وہ میری نگاہ میں منافق بن جاتا ہے۔کیونکہ مومن وہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کے حصول کا ارادہ اور عزم کرلے تو اس کے حصول کے لئے جس قسم کی اور جتنی قربانی دینی پڑے اور تیاری کرنی پڑے وہ کرتا ہے۔اور پھر وہ اللہ کے فضل سے کامیاب ہوتا ہے کامیاب تو اللہ کے فضل سے ہوتا ہے لیکن اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔اس لئے ہم نے کہا کہ آپ سائیکل لیں اور میں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ سات سال تک انتہا ہے لیکن اگر ہو سکے اور جماعت ہمت کرے اور خصوصاً جماعت کے دیہاتی احمدی کوشش کریں تو تین چار سال میں۔ایک لاکھ سائیکل سوار بن جائیں گے۔بہت سے فائدے ہوں گے صحت اچھی ہوگی۔وقت بچے گا۔کھیتوں میں برکت ہوگی مال زیادہ ہو گا۔مال میں برکت ہوگی اور پھر اولاد میں بھی برکت ہوگی۔صحت مند قوم بن جاؤ پھر دیکھو دنیا تمہیں اپنا حقیقی اور سچا خادم او رغمخوار سمجھنے لگے گی۔ہم خادم کی حیثیت سے پیدا ہوئے اور خادم کے مقام پر کھڑے رہنا ہماری زندگی کا معراج ہے۔جتنا ہم بڑھیں گئے جتنا ہم طاقتور ہوں گے جتنا ہم علم میں ترقی کریں گے جتنا ہماری فراست کا نور آسمان کی بلندیوں کو چھوئے گا اتنا ہی وہ جو خود کو ہمارا دشمن سمجھتا ہے ہمیں پہلے سے زیادہ اپنا دوست پائے گا۔اپنا خادم اور ہمدر د پائے گا۔پس آگے بڑھنا ہے اور ساری دنیا سے آگے نکلنا ہے۔پاکستان تو بہت پیچھے ہے پاکستان نے تو اس طرف توجہ نہیں کی لیکن احمدی ( اور میرا یہ پیغام دنیا بھر کے احمدیوں کو ہے کیونکہ خدام الاحمدیہ بین الاقوامی خدمت پر مامور ہیں)۔دنیا کے احمدی کو میں کہتا ہوں کہ اگر تم نے خدمت کی ذمہ داریاں نوع انسانی سے ہمدردی کی ذمہ داریاں ان کے دکھوں کو دور کرنے کی ذمہ داریاں اور قرآن کریم سکھانے کی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں تو اپنے جسموں اور ذہنوں کو طاقتور بناؤ تا کہ تم قوی ہو جاؤ۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نہ صرف قومی بنو بلکہ ”آمین“ بنو۔اس کا تعلق اسی دوسری چیز سے ہے جس کا ذکر آج کے خطبہ جمعہ میں میں نے کیا تھا۔یعنی قرآن کریم کی تعلیم سمجھنا اور دوسروں کو سمجھانا اور اس پر عمل کرنا اور دوسروں کو تیار کرنا کہ اس پر عمل کریں۔امین کے ایک معنی یہ ہیں جس کی تفسیر ایک دوسری آیت میں بھی ہے قرآن کریم اپنی آیات کی تفسیر خود بھی کرتا ہے بلکہ تفسیری معانی میں آیات ایک دوسرے کی مد اور معاون ہیں۔اور انسان کے ذہن کو اس طرف متوجہ کرنے والی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے پاس ایک امانت تھی ہم نے آسمانوں کو کہا اسے اٹھا لو۔انہوں نے انکار کر دیا۔ہم نے زمین سے کہا اسے اٹھا لو تو زمین نے بھی انکار کر دیا۔ہم نے پہاڑوں سے کہا تم بلند و بالا پہاڑ میل میل بھر لمبے پتھر تمہارے اندر ہیں، جو تمہاری جان ہیں تو تم بڑے مضبوط ہو۔اس امانت کو اٹھا لو تو انہوں نے بھی انکار کر دیا۔تب ہم نے انسان کو کہا تو اس امانت (یعنی ذمہ