مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 391 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 391

فرموده ۱۹۷۳ء 391 د دمشعل شعل راه جلد دوم داری) کو اٹھا اور اس نے اٹھا لیا۔یہ امانت جو خدا تعالیٰ نے آسمانوں کو پیش کی اور انہوں نے انکار کیا مطلب یہ کہ انہوں نے کہا کہ خدایا! تو نے ہم میں وہ طاقتیں ہی پیدا نہیں کیں جو اس امانت کو اٹھا سکیں۔وہ امانت کہ زمینوں کو کہا گیا کہ اٹھاؤ تو انہوں نے کہا خدایا ہمارے اندر اس قسم کی طاقت پیدا کرنے کے مادی سامان تو ہیں لیکن طاقت ہم میں نہیں ہے کہ تیری اس امانت کو ہم برداشت کر سکیں۔پہاڑوں نے اپنی بلندیوں اور اپنی سختی کے باوجود اور اپنی گرمی اور اپنی سردی کے باوجود کہا خدایا! ہمیں تو نے یہ طاقت نہیں دی لیکن انسان نے کہا اے میرے رب! تو نے مجھ میں یہ طاقت رکھی ہے کہ تیری دوسری مخلوق نے جس امانت کو اُٹھانے سے انکار کیا میں اس امانت کو اگر تیری عطا کردہ طاقتوں کا صحیح استعمال کروں اٹھا سکتا ہوں۔اس لئے میں اٹھاتا ہوں۔سو یہ امانت انسان نے اٹھالی اور یہ امانت جس کے اٹھانے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے تا کہ نوع انسانی کو درجہ بدرجہ ہزاروں سالوں میں تربیت دے کر اس مقام تک پہنچا دیں کہ جس مقام پر کھڑے ہوکر محمد ﷺ کی امت پہ کہہ سکے کہ اے خدا! تیرا درود اور سلام ان انبیاء پر جن کی مسلسل تربیت کے نتیجہ میں ہمارے آباؤ اجداد نسلاً بعد نسل اس قابل ہوئے کہ محمد اللہ کی آخری شریعت یعنی اس کامل امانت کو اُٹھانے کے قابل ہمیں بنا دیں اور تیرا درود اور سلام محمد ﷺ پر جو ایک محسن اعظم کی حیثیت میں ایک کامل اور حسین نور لے کر آئے کہ جس کو ہم اپنی طاقتوں اور استعدادوں کی صحیح نشو ونما کر کے بشاشت کے ساتھ اور مسکراتے چہروں کے ساتھ محمد علیہ کی تربیت اور آپ کی تعلیم کے نتیجہ میں اٹھا سکتے ہیں۔آپ پر درود ہو اور ہم امت محمدیہ یہ کہنے کے قابل ہوئی کہ اے ہمارے رب! اس امانت کو ہم کامل طور پر اٹھاتے ہیں تو ہم سے جو بھی مطالبہ کرے گا ہم تیری راہ میں اسے پورا کریں گے تب تمہارا نام خدا نے ”امین رکھا۔اس امین کے طفیل جسے دنیا نے محمد اللہ کے نام سے بھی یاد کیا اور جس کے بلند وارفع مقامات اور نام اور بھی ہیں جس کی برکتیں اور قوت قدسیہ اپنی وسعت کے لحاظ سے اور اپنی تیزی کے لحاظ سے قیامت تک کے زمانہ کو چھید تی چلی جارہی ہیں اور گھائل کرتی چلی جارہی ہیں اور اس نے دنیا کو اپنے احاطہ میں لیا ہوا ہے۔وہ امین تھے محمد ﷺے اور ان کے طفیل تم امین ہو۔اس معنی میں کہ تمہیں خدا آج یہ آواز دے رہا ہے کہ وہ امانت جس کو دوسری مخلوق نے اُٹھانے سے انکار کیا تھا اور جس کے قبول کرنے کی اہلیت پیدا کرنے کے لئے ہزاروں ہزار پیغمبر دنیا کی طرف آئے اور ایک امت محمدیہ اور امت مسلمہ خیر امت پیدا ہوئی۔یہ امانت ہے جس کو آپ نے اٹھانا ہے اور جس کی ذمہ داریوں کو آپ نے نباہنا ہے۔یہ وہ امانت ہے جس کی طرف موسیٰ کو اس وقت میں ایک چھوٹے دائرہ کے اندر القوی الامین“ کہا گیا تھا۔لیکن تمہارا دائرہ وسیع ہو گیا۔صرف یہود تمہارے مخاطب نہیں۔نہ تمہاری کوششوں کے نہ تمہاری توجہ کئے نہ تمہاری دعاؤں کے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نفوس سے ان کے شر کو نکالے اور محمد اللہ کا نور ان کے دلوں میں بھر دے اور نہ صرف عیسائی تمہاری اس جدوجہد سے باہر ہیں دنیا کی کون سی قوم اور ملک ہے جو تمہاری اس عظیم جد و جہد سے باہر رہنے والا ہے۔اتنی بڑی جدو جہد جس قوم کے بچوں نے کرنی ہو اور جس قوم کے بچوں کی ہر نسل کے بعد