مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 389 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 389

د دمشعل را مل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۳ء 389 کہ آپ نے جس ملک میں ایک مسجد بنائی اور مشن ہاؤس بنایا۔اور جو باتیں آپ کر رہے ہیں بڑی اچھی ہیں اور ہمارے ملک کے عوام کے سامنے پیش ہونی چاہیں لیکن اتنی چھوٹی سے کوشش سے اتنے بڑے نتائج کیسے نکلیں گے؟ نتائج تو اللہ تعالیٰ نکالتا ہے اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سے واقف نہیں لیکن میں نے انہیں ایک بات کہی اور آپ کو اس لئے بتارہا ہوں کہ آپ اس کے لئے تیار رہیں۔میں نے کہا بات یہ ہے کہ یہ ہمارے مشن ہاؤس دراصل ہماری (Observation Post) یعنی دیکھ بھال کی چوکیاں ہیں یہاں سے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تمہارے ملک میں کس قسم کی تبدیلی پیدا ہورہی ہے اور اس سے ہمیں بڑا فائدہ ہے کیونکہ تمہاری ذہنیت اور تمہارا رجحان کس طرح بدل رہا ہے؟۔کدھر جا رہا ہے؟ کس طرح تم عیسائیت کو دل سے چھوڑ رہے ہو؟۔اور دھریت کو تم پسند نہیں کر رہے یہ جو ایک Vacum (ویکیوم) یعنی خلاء پیدا ہورہا ہے۔یہ حالت ہمارے علم میں آرہی ہے۔جس وقت جماعت احمدیہ کو یہ پتہ لگا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی جگہ پر اس طرح جھنجھوڑا ہے کہ تمہارے درخت، گندگی اور دہریت اور مشرکانہ زمین سے اکھیڑ کر اسلام کے باغ میں لگائے جاسکتے ہیں اس وقت میں ایک ہزار احمدی کو کہوں گا کہ تمہارے ملک میں آجائے۔وہ آجائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ ایک ہزار احمدی تو آئے گا۔مجھے یقین ہے اور یقین کی بناء پر ہی میں نے کہا۔لیکن میری یہ خواہش ہے کہ اگر کبھی یہ آواز امام وقت کو دینی پڑے تو ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے بلکہ سب میدان میں آجائیں۔میں نے جیسا کہ ابھی بتایا اور اپنے خطبہ میں بھی یہ کہا تھا کہ امت مسلمہ اگر صحیح معنوں میں امت مسلمہ بنا چاہتی ہے تو ان کو دوسروں کی امداد سے چھٹکارا حاصل کرنا پڑے گا۔کیونکہ ہمارے خدا ہمارے محبوب اور پیارے رسول ﷺ اور قرآن نے یہی کہا ہے یہ تو ایک اصولی تعلیم ہے لیکن تمہیں میں یہ کہوں گا کہ تمہیں خدا نے پیدا ہی اس لئے کیا ہے کہ تم دنیا کے دل اسلام کے لئے جیتو اور تمام نوع انسانی کو کے جھنڈے تلے لا جمع کرو تم اپنی جسمانی اور ذہنی قوتوں کی نشو ونما کو اپنے کمال تک پہنچاؤ۔اب ہمارے کالج میں ایم ایس سی فزکس کا نتیجہ بہت اچھا نکلا ہے۔اور ہمارے یہاں کے ایک نوجوان بچے نے یو نیورسٹی کا ریکارڈ توڑا ہے۔مجھے بتایا گیا ہے کہ ( واللہ اعلم بالصواب) اس موقع پر بعض لوگ بڑے گھبرائے بعض چالا کیاں بھی انہوں نے کیں لیکن اس بات میں تو وہ عام کامیاب نہیں ہوئے کہ اس کو نمبر کم کر کے پیچھے ڈال دیں۔لیکن انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ دس نمبر Grace Marks ( گریس مارکس) فی پر چہ دیں گے اور جب ہمارے بچے کے نمبر سامنے آئے تو انہوں نے سوچا کہ اس کو عام قاعدہ کے مطابق نمبر مل گئے تو یہ ایک ایسار یکارڈ قائم ہو گا جو بعد میں کبھی ٹوٹے گا ہی نہیں۔اس لئے انہوں نے بیچارے دوسروں کو نقصان پہنچا کر اس کو وہ نمبر نہیں دیئے۔پھر بھی ریکارڈ تو اس نے توڑ ہی دیا مگر جو چیز انہوں نے سوچی نہیں وہ یہ ہے کہ انہیں کس نے یہ یقین دلایا ہے کہ بعد میں آنے والا نوجوان جو اس ریکارڈ کو توڑے گا وہ ربوہ کا احمدی نہیں ہوگا ! انشاء اللہ وہ ربوہ کا ہی ہوگا۔