مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 379 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 379

نل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۳ء 379 دومشعل بھائی سیلاب کے پانی میں گھرے ہوئے ہیں اور بھوکے مر رہے ہیں۔ہوائی جہاز کے ذریعہ انہیں روٹیاں پہنچائی جارہی ہیں۔ہم تو رضا کارانہ طور پر خدا کی خوشنودی کی خاطر خدمت خلق کا یہ کام کر رہے ہیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہمیں ماریں تو ہم مارکھانے کے لئے آئے ہیں۔لیکن ایک شرط ہے تم ہمیں جتنی مرضی چپیڑ میں مارلونگر فنی چیرہ ہمیں ایک روٹی دیتے چلے جاؤ۔جب انہوں نے یہ بات سنی تو چونکہ انسان فی نفسہ شریف ہے کیونکہ وہ اشرف المخلوقات کا ایک فرد ہے انہوں نے چیرہ میں تو نہیں ماریں گھر سے روٹیاں لا کر دے دیں۔پس ہم ہی بنی نوع انسان کی بے لوث خدمت کرنے والے ہیں اور کوئی نہیں۔بظاہر امریکہ بھی خدمت کر رہا ہے۔یورپ بھی بظاہر خدمت کر رہا ہے۔مگر اس کے پیچھے ایک بہت بڑا جل کام کر رہا ہے۔روس بھی بظاہر خدمت کر رہا ہے۔مگر اس کے پیچھے بھی کچھ اور پر فریب محرکات ہیں۔جنہیں بیان کرنے کا یہ وقت نہیں ہے۔دعا کی اہمیت بے لوث خدمت جس کے مقابلہ میں آپ کے دل میں ایک دھیلے کے حصول کی بھی خواہش پیدا نہ ہو وہ صرف آپ کر سکتے ہیں۔کیونکہ آپ کے دل کو خدا تعالیٰ کی تقدیر نے بدل دیا ہے اور اس کے علاوہ آپ پر اور ذمہ داریاں عائد ہوگئیں۔جنہیں سمجھنے کے لئے اور واپس جا کر اپنے بھائیوں کو سمجھانے کے لئے آپ کو یہاں اکٹھا کیا جاتا ہے۔یہ دن بڑی محنت سے بڑی فکر اور توجہ سے گزاریں اور کچھ حاصل کر کے یہاں سے واپس اپنے گھروں کو جائیں۔اور بے معنی میں ایک مسلمان کو جس قسم کا خادم خدا تعالیٰ نے قرآنی تعلیم کے ذریعہ بنایا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں کے نتیجہ میں اور آپ کی اور ہماری دعاؤں اور کوششوں کے نتیجہ میں آپ کو ایسا خادم انسانیت بنا دے۔پھر ہم سمجھیں گے کہ ہماری زندگی کا مقصد پورا ہوگیا اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے یہ ہوسکتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی توفیق پر ہی ہم بھروسہ رکھتے ہیں۔اب میں دعا کرا دوں گا۔اس کلاس کا افتتاح تو تلاوت قرآن کریم کے ساتھ ہی ہو گیا تھا کیونکہ قرآن کریم ہی سے ہماری ہر چیز کا افتتاح اور اسی پر ہمارا ہر کام ختم ہوتا ہے۔تاہم ایسے موقع پر ہم دعا بھی کرتے ہیں۔ویسے ہر شخص بغیر بتائے دعا کر رہا ہے اور وہ دل کی دعا ہے جس کی عادت ہر ایک کو ڈالنی چاہیئے۔ہماری زندگی کا ہر لمحہ دعا سے معمور ہونا چاہیئے۔اسی واسطے خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو الہاما فرمایا: انت الشيخ المسيح الذي لا يضاع وقته۔اس الہام کی رو سے جس احمدی نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ دعا میں گزارا اس کا وقت گو یا ضائع نہیں گیا۔اس لئے تم ہر وقت دعاؤں میں لگے رہو۔اب میں اس کلاس کے افتتاح پر حسب معمول ہاتھ اٹھا کر بھی دعا کرا دیتا ہوں۔ویسے عام حالات میں زیادہ تر بغیر ہاتھ اُٹھائے بھی ہم دعا میں کر رہے ہوتے ہیں دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا فرض نہیں ہے۔عادت ڈالنے کے لئے یاد دہانی کے لئے ہم ہاتھ اٹھاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے دعا میں بڑی