مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 376 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 376

376 فرموده ۱۹۷۳ء و مشعل راه جلد دو کی طرح پر ہلاتے ہوئے ایک جگہ اڑتا نظر آتا ہے۔اسی طرح یہ چڑیا بھی کھڑی ہو جاتی ہے اور اپنے پر ہلانے لگتی ہے۔اس میں خدا کی شان دیکھیں کہ چھوٹا سا وجود ہے مگر رنگ اس کے اتنے پیارے اور عادتیں اس کی اتنی پیاری اور کھانا اس کا اتنا اچھا ہوتا ہے بلکہ بہترین کھانا ہوتا ہے یعنی وہ پھول کا رس چوس جاتی ہے اور مجھے اس سے بھی زیادہ پیاری اس کی یہ چی لگتی ہے کہ جس وقت اس کی چھپی ہوئی چیزیں ظاہر ہوتی ہیں تو ان میں ظاہر کی نسبت زیادہ حسن نظر آتا ہے۔سرخ اور زرد رنگ کا جو حسین امتزاج اس کی بغل کے نیچے چھپا ہوا ہے۔جس وقت وہ ظاہر ہوتا ہے تو اس کا باطن اس کے ظاہر سے بہت زیادہ حسین نظر آتا ہے۔ہمیں اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ایک احمدی کا باطن اس کے ظاہر سے بہت زیادہ خوبصورت اور حسین ہونا چاہیے۔بہر حال یہ اور اسی قسم کی بہت سی باتیں مشاہدہ کے اندر آتی ہیں۔اور خدا تعالیٰ کا ایک بندہ جس نے خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل کی ہو یا اس طرف متوجہ ہو اور صفات کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہو اس دنیا کے بہت سے حسین نظارے اس کے سامنے آتے ہیں۔اس کا دل خدا کی حمد سے معمور ہو جاتا ہے۔اُس کی زبان اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اقرار کرتے نہیں تھکتی۔غرض جب اللہ تعالیٰ کی صفات کی شان انسان کے سامنے آتی ہے اور اس کے مقابلہ میں وہ اپنی عاجزی کو دیکھتا ہے اور اُسے یہ حقیقت نظر آتی ہے کہ چند ذروں میں جان ڈال دی۔پھر اس میں اتنا حسن پیدا کر دیا گیا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔اس میں ان لوگوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے جو خدا کو بھول جاتے ہیں حالانکہ ہر وہ چیز جس کا آپ مشاہدہ کرتے اور اس سے سبق حاصل کرتے ہیں وہ آپ کی استاد ہے۔غرض ہر چیز میں خدا تعالیٰ کی شان بھی نظر آتی ہے۔اور اس میں انسان کے لئے کوئی نہ کوئی سبق بھی موجود ہوتا ہے۔اسی چڑیا کو دیکھ لو اس میں جہاں قدرت خداوندی جلوہ گر ہے وہاں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ دیکھو تمہارا باطن تمہارے ظاہر کی نسبت زیادہ خوبصورت ہونا چاہیئے۔ورنہ تم مومن نہیں کہلا سکتے جس انسان کا ظاہر اس کے باطن سے زیادہ خوبصورت ہے تو یہ ریا کاری ہے۔کیونکہ انسان بسا اوقات چرب زبانی سے بظاہر خوبصورت بن جاتا ہے۔جھوٹے وعدوں سے بظاہر خوبصورت بن جاتا ہے۔اچھے کپڑوں سے بظاہر خوبصورت بن جاتا ہے۔مال کے ذریعہ دنیا کی خوبصورتیاں جمع کر کے خوبصورت بن جاتا ہے۔اس نے کوئی یہاں سے چیز اٹھالی اپنے ڈرائنگ روم کو سجانے کے لے کوئی وہاں سے اٹھالی اس سے انسان کے اندر یعنی اس کی زندگی میں دیکھنے والوں کو دنیوی نقطہ نگاہ سے حسن نظر آتا ہے۔لیکن اگر لوگ اپنی اپنی کوشش اور اپنی ہمت سے ان قومی کے ذریعہ حسن کو پیدا کرنے کے لئے ( وہ حسن جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں حسن ہے) کچھ نہیں کرتے۔لیکن اگر ہر ایک آدمی جھوٹ بول لیتا ہے آسانی سے۔بدیانتی کر لیتا ہے آسانی سے۔یا نا اہل ہے۔سست ہے۔محنت نہیں کرتا دوسرے ظاہری حواس سے وہ کام نہیں لیتا۔پس یہ ظاہری حالات خواہ کتنے ہی خوبصورت کیوں نہ دکھائے جائیں اس کے باطن یعنی جھوٹ اور بددیانتی اور نا اہلی کو چھپا نہیں سکتے۔اصل وہی چیز اچھی ہے۔جس کا باطن ظاہر سے بھی اچھا ہوتا ہے۔