مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 359 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 359

د دمشعل راه جلد دوم دد سے لطیفہ بھی ہے۔ہمیں شرمندہ کرنے والا بھی ہے اور فکر مند کرنے والا بھی ہے۔فرموده ۱۹۷۲ء 359 حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے بزرگ تھے۔اکثر خدام ان علاقوں سے آئے ہیں جہاں حضرت سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بڑی عزت اور احترام کیا جاتا ہے۔مثلاً کشمیر میں انہیں بڑی عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔چنانچہ ان علماء نے جن کا علم ظاہری حواس کے ذریعہ حاصل کئے ہوئے علم سے آگے بڑھ کر عقل و فکر کے میدانوں میں داخل نہیں ہوا تھا ان پر یہ کہ کر کفر کا فتویٰ لگایا کہ تم وہ باتیں کہہ رہے ہو جو تم سے پہلی صدی کے باطنی علماء نے نہیں کہیں۔اس واسطے تم کا فر ہو اور پھر ان سے بعد میں آنے والی صدی کے باطنی علماء پر یہ کہ کر کفر کا فتویٰ لگایا گیا کہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے جو کہا تھا تم اس سے مختلف باتیں کرتے ہو۔چنانچہ مختلف باتیں کہنے پر حضرت سید عبد القادر جیلانی اپنے وقت پر کا فرٹھہرے اور بعد میں آنے والے مجددین اور مقربین الہی اپنے وقت پر کافر ٹھہرے اس واسطے کہ ان ظاہری علماء کا علم ظاہری حواس سے آگے نہیں بڑھا تھا۔ایسے علماء نے بے شک کتابوں کو پڑھا اور سنا بلکہ جن کا حافظہ تیز تھا انہوں نے یاد بھی کر لیا۔لیکن انہوں نے اپنے علم کو ذاتی تجربے کی کسوٹی پر نہیں پر کھا۔انہوں نے خود غور و فکر اور عقل و تدبر سے کام نہیں لیا۔اور نہ انہوں نے اس سے نتائج اخذ کئے۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ نے اپنے سے پہلی صدی کے باطنی علماء سے اس لئے اختلاف کیا کہ سید صاحب کے زمانے کے مسائل ان سے پہلی صدی کے مسائل سے مختلف تھے اور ان کو حل کرنے کیلئے خدائے واحد و یگانہ نے ان کو علم قرآن سکھایا تھا۔اگر وہ ظاہری علماء جنہوں نے کفر کا فتویٰ لگایا تھا وہ فکر سے کام لیتے اور اس اختلاف کی وجہ معلوم کرتے اور پھر یہ دیکھتے کہ ان کے زمانہ میں جن لوگوں نے فکر سے کام لیا اور پھر عقل سے کام لیا۔یعنی اپنی زندگیوں میں ان کی نئی تفسیر کے مطابق نئی برکات کے حصول کی کوشش کی۔انہوں نے وہ برکات حاصل کیں۔اسی طرح اگر وہ بھی فکر سے کام لیتے تو اس ابدی صداقت سے جو اکثر مجددین کے بعثت کا خاصہ رہا ہے ( تبھی تو وہ عزت واحترام سے یاد کئے جاتے ہیں ) تو وہ خود بھی فائدہ اٹھاتے اور بعد میں آنے والوں کو کا فر بھی نہ کہتے۔یعنی سید عبد القادر جیلائی کے متعلق انہوں نے جو علم حاصل کیا اگر اس کو غور و فکر سے سمجھنے کی کوشش کرتے اور یہ معلوم کرتے کہ اس زمانہ کے لوگوں نے جنہوں نے فکر اور غور سے کام لے کر حضرت سید عبد القادر جیلائی سے برکت اور فیض حاصل کیا وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے زمانہ کے مسائل سمجھے اور ان کا حل حضرت سید صاحب کی تفسیر قرآنی میں پایا تو پھر حضرت سید عبد القادر کے بعد میں آنے والے بزرگ کو یہ کہہ کر کا فرقرار نہ دیتے کہ تم اس لئے کافر ہو کہ تم سید صاحب سے مختلف باتیں کر رہے ہو کیونکہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی نے جو پہلوں سے مختلف باتیں کی تھیں ان پر فکر کے نتیجہ میں وہ اس نے نتیجہ پر پہنچے تھے کہ وہ نیا باطنی عالم ہے جو خدا تعالیٰ سے سیکھتا ہے اور نئے مسائل حل کرنے کیلئے نئی باتیں کرتا ہے۔اس واسطے اس کی کوئی بات قابل اعتراض نہیں ہوتی۔اس طرح اس زمانہ میں اگر ہمارے مخالفین فکر سے کام لیتے اور حضرت مسیح موعود کے دعاوی پر غور کرتے اور