مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 360
360 فرموده ۱۹۷۲ء دومشعل راه جلد دوم آپ نے یہ جو فرمایا ہے کہ میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے فیوض کو بانٹ رہا ہوں تم خود آزما کر دیکھ لو اگر اس پر غور وفکر کرتے۔اپنی عقل سے کام لیتے تو کافر کہنے کی بجائے آپ کے پاؤں پکڑ کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر فدا ہور ہے ہوتے۔پس خالی علم ایک لا یعنی چیز ہے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔خواہ وہ ظاہری علم ہو اور ظاہری علم سے میری مراد سائنسی علوم ہیں جو تفصیلی اور بنیادی علوم ہیں اور انسانی بقا کیلئے اور انسانی ترقیات کیلئے اور انسان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے دروازے کھولنے کیلئے ہم انہیں پڑھتے اور دنیوی طور پر فائدہ اٹھاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں ربنا اتنا في الدنيا حسنة میں ان دنیوی علوم کی طرف بھی اشارہ ہے اور فی الاخرۃ حسنہ کی رو سے ہم ان سے مذہبی اور روحانی فائدہ اٹھاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری بھی دعا قبول کرتا ہے اور کہنے کو تو وہ فزکس کی ایجاد ہوتی ہے یا کیمسٹری کے ذریعہ خواص اشیاء پر مشتمل کوئی نئی دریافت ہوتی ہے مگر ان سب کا حصول اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہوتا ہے۔بہر حال ہمارا یہ کام ہے ( اور یہی میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں ) کہ لوگوں کو پیار کے ساتھ اور ان کی با ہیں پکڑ کر محبت کے ساتھ ان کو ( یہ جو حرکت ہے علم سے فکر اور فکر سے عقل کی طرف اور پھر عقل سے علم کی طرف اور پھر علم سے فکر اور فکر سے عقل کی طرف) اس راستے پر جو دائرہ کی شکل میں چل رہا ہے لا کھڑا کریں ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے محروم ہو جائیں گے۔دہریت نواز دنیا نے گود نیوی طور پر ترقی کی ہے۔مگر وہ راہ راست سے بھٹک گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمت کے طور پر جو چیز دی تھی وہ ان کی ہلاکت کا موجب بن گئی۔مادی ذرے کے اندر جو طاقت ہے یہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے لیکن ان بے وقوفوں نے ذرات کی طاقت کو ہلاکت کے سامان پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا اور اب سارے ڈر رہے ہیں بڑے خوف زدہ ہیں کہ اب کیا ہوگا۔چنانچہ امریکہ بھی خوف و پریشانی میں مبتلاء ہے۔روس بھی خوف اور پریشانی سے دو چار ہے اور اس طرح بعض دوسرے ملکوں میں بھی خوف و پریشانی کا دور دورہ ہے۔اب یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ خدا کی نعمتوں کا غلط استعمال کر کے انہوں نے اپنے لئے خدا کی رحمت کے دروازے کھولنے کی بجائے پریشانیوں کے دروازے کھول لئے ہیں۔اس لئے اب دنیا کو سمجھانا ہمارا کام ہے کسی دوسرے کا کام نہیں نہ کسی نے پیدا ہونا ہے۔اس کام کیلئے جس نے پیدا ہونا تھاوہ تو پیدا بھی ہو چکا۔خدا کے محبوب خاتم النبین ﷺ کا محبوب مہدی آچکا۔چنانچہ وہ دنیا جس نے خدا اور اس کے رسول کو پہچانا تھا اس نے ختم المرسلین کی طرف سے اسے سلام پہنچا دیا۔وہ آ گیا۔اب اس کے ذریعہ غلبہ اسلام مقدر ہے۔اس کی جماعت نے اپنی حقیر قربانیاں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر کے اور اپنے عاجزانہ آنسوؤں کے ساتھ اپنے گناہوں کو دھو کر یہ انقلاب دنیا میں بپا کرنا ہے۔پس ظاہری طور پر اگر ہمارے سکول اور کالج بھی لے لئے جائیں (ابھی ان کا آخری فیصلہ نہیں ہوا) تب بھی ہمارے کام میں کوئی فرق نہیں پڑتا اس لئے جیسا کہ میں نے بتایا ہے علم کا جو پہلا مرحلہ ہے اس کا بھی ایک حصہ ہے جو ان کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے۔اور پھر دوسرے اور پھر تیسرے حصہ میں داخل ہوئے بغیر یعنی فکر اور عقل سے کام لئے بغیر اور پھر اس کے متوازی جو دوسرا چکر چل رہا ہے یعنی شعور و عرفان اور عمل صالح کی