مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 341
دومشعل ان جلد دوم صلى الله فرمود ۱۹۷۲۵ء 341 اپنا پورا زور گایا حتی کہ آپ ﷺ کو اور آپ کے دو تین سوصحابہ کواڑھائی سال تک شعب ابی طالب میں قید رکھا اور کھانے کے سارے راستے بند کر دیئے گواڑھائی سال کی اس قید میں اللہ تعالیٰ نے بھوکے مرنے سے تو ان کو بچالیا۔لیکن ان کے جسم کمزور ہو گئے۔ان کی طاقتوں میں ضعف پیدا ہو گیا۔چنانچہ اتنی لمبی بھوک کی اور دوسری اذیتیں برداشت کرنے کے باوجود جب خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کے اخلاق کو دنیا پر ظاہر کرنے کا ارادہ فرمایا اور خدائی منشاء کے مطابق سکے والوں کو قحط کا سامنا کرنا پڑا۔خوراک کی کمی ہوگئی تو وہ جنہوں نے اڑھائی سال تک مسلمانوں کو شعب ابی طالب میں بند کر کے بھوکا مارنے کی کوشش کی تھی ان کی بھوک کو محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن بھی برداشت نہیں کیا بلکہ جوں ہی پتہ لگا ان کی بھوک دور کرنے کے سامان پیدا کرنے کی کوشش شروع کر دی۔گومدینے سے مکے تک سامان کے پہنچنے میں اور اس سے پہلے سامانوں کو اکٹھا کرنے اور اس کا اانتظام کرنے میں وقت تو لگا لیکن ایک دن ضائع کئے بغیر ان کی بھوک کو دور کرنے کے سامان کرنا شروع کر دئیے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اڑھائی سال تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کو بھو کے مارنے کی کوشش کی تھی۔یہ وہ خیر ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں آیا ہے: - ماذا انزل ربكم قالو اخیرا۔بھلائی ہی بھلائی ہے۔قرآن کریم کی تعلیم کو دیکھ لو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو دیکھ لو ہر ایک لئے بھلائی ہی بھلائی نظر آتی ہے۔یعنی خیر محض اس خیر محض سے مختلف پہلوؤں میں ہزاروں شعائیں نکلیں۔گویا آپ کیا وجود منبع ہے خیر محض کا۔آپ کے دل میں ہر کس و ناکس کی فکر تھی۔کسی کی روحانیت کی فکر کسی کے اخلاق کی فکر کسی کے نفاق کے درست کرنے کی فکر کسی کے ایمان کی کمزوری دور کرنے کی فکر کسی کے بھوکا مرنے سے بچانے کی فکر کسی کی عزتیں خطرے میں تھیں ان کی عزتوں کی حفاظت کی فکر۔بعض تو میں تھیں جو اپنے لئے جہنم کے سامان پیدا کر رہی تھیں ان کی فکر کہ وہ خدا کے عذاب سے بچ جائیں۔چنانچہ کسری اور قیصر نے حملے کئے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فکر تو پیدا نہیں ہوئی تھی کہ میں نہ مارا جاؤں گو ان کے ساتھ لڑائیاں تو خلافت راشدہ کے زمانہ میں ہوئیں لیکن اس فتنہ کے آثار آپ کے زمانہ ہی میں افق پر نظر آنے لگ گئے تھے۔کہ ان قوموں کے ساتھ واسطہ پڑے گا۔سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ شروع ہو گئی تھی۔اسی طرح آپ کے خلفاء کو یہ فکر نہیں تھی کہ ابو بکر مارا جائے گا یا عمر مارا جائے گا یا عثمان مارا جائے گا یا علی مارا جائے گا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر ہوں اللہ تعالیٰ کی رضا انہیں حاصل ہوں)۔انہیں فکر تھی تو اس بات کی یہ تو میں جہنم کے دروازے اپنے لئے کھول رہی ہیں کہیں یہ ماری نہ جائیں۔چنانچہ ایک وقت تک اندھیرا تھا اور انکار تھا۔لیکن انکار پر اصرار نہیں تھا اور بظاہر کچھ شرارت اور فتنہ اور فساد نہیں تھا۔لیکن بعد میں ننگے ہو کر سامنے آگئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے نام لیواؤں کو مٹانے کے لئے سارا عرب اکٹھا ہو گیا۔انہوں نے مدینہ کو گھیرے میں لے لیا اور مسلمانوں کے خلاف آخری اور فیصلہ کن جنگ شروع کر دی۔بعد میں یہود بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ایسے خطرناک موقع پر بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں صرف یہ نہیں تھیں کہ مدینہ میں بسنے والے مسلمانوں کی اللہ تعالیٰ