مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 340
340 فرموده ۱۹۷۲ء دو مشعل راه جلد دوم ذہن میں آجاتی تھیں۔مجھے یاد ہے جب میں اسکول میں پڑھا کرتا تھا مسجد مبارک کے نیچے ایک بلیک بورڈ ہوتا تھا۔جس پر ہمارے چھوٹے ماموں جان حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی نہ کوئی حدیث یا ارشاد لکھ دیا کرتے تھے۔لوگ اس کو پڑھتے۔آپس میں باتیں کرتے ایک دوسرے سے اس کا مضمون دریافت کرتے اور اس طرح گویا آپس میں تبادلہ خیال سے علم میں اضافہ ہوتا تھا۔پھر قادیان میں دوست باہر جاتے تھے۔گاؤں والوں سے ملتے تھے اور یہ ملاپ قائم رہتا تھا۔اب مجھے یہ شبہ ہے کہ ربوہ کا ملاپ اپنے ماحول سے اس سے کم ہے جتنا قادیان کا ملاپ اپنے ماحول کے ساتھ تھا۔واللہ اعلم بالصواب عزیزان من! صرف دعوئی یا تعلیم کافی نہیں ہے۔تمہاری زندگیوں میں تمہارے اخلاق میں تمہاری عادات میں اس کا رنگ نظر آنا چاہئے۔قادیان میں چونکہ اس کا موقعہ ملتا تھا دوستوں پر چاروں طرف سے دباؤ پڑتا تھا۔وہ صرف علم میں ہی ترقی نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے عمل میں بھی پختہ ہو جاتے تھے اور اس طرح قول و فعل میں توازن و یک رنگی پیدا ہو جاتی تھی۔اسی واسطے اب میں نے یہاں باہر کی جماعتوں میں ایک تحریک شروع کی ہے اگر آپ ہمت کریں تو میرے لئے خوشی اور آپ کے لئے بھلائی کا موجب ہوگی وہ یہ ہے کہ ہمارا ہر عزیز بچہ جس نے اس کلاس میں شمولیت اختیار کی ہے وہ اگلے دو تین مہینے کے اندر کوشش کر کے دس غیر احمدیوں کو اپنا دوست بنائے۔آپ ان کے ساتھ متنازعہ فیہ مسائل پر جھگڑمیں نہیں۔دوستانہ ماحول میں ان کے ساتھ باتیں کریں ان کو پیار سے سمجھا ئیں کبھی ان کو چائے پر بلا لیں۔نیکی کی باتیں کریں۔قرآن کریم کی تعلیم سے انہیں روشناس کرائیں۔ان کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کیا دلائل ہیں۔احمدیت کے کیا دلائل ہیں اور احمدیت کو کیوں قبول کرنا چاہیے۔شروع شروع میں ان مسائل کو لینے کی ضرورت نہیں ہے۔آپ ان کو عملاً یہ بتائیں کہ ایک احمدی کس قسم کا وجود ہے جو پیار کرتا ہے خدا تعالیٰ سے پیار کرتا ہے خدا کے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرتا ہے خدا کی مخلوق سے پیار کرتا ہے خدا کی تعلیم سے جو قرآن کریم کی شکل میں کامل طور پر ہمیں ملی ہے اور خیر محض ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ کیا ہے؟ قرآن کریم کی شکل میں مکمل ضابطہ حیات ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو حکم نازل فرمایا ہے آپ نے وہ کر دکھایا یہی آپ کا اسوہ حسنہ ہے اسی واسطے جب آپ کے اخلاق کے متعلق حضرت عائشہ سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ کے اخلاق کیسے تھے۔انہوں نے کہا قرآن دیکھ لو جو قرآن میں خلق بیان ہوئے ہیں وہ آپ کی زندگی میں ہمیں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔پس قرآن کریم نے جو اخلاق بتائے ہیں ان کا خلاصہ خیر کے ایک لفظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔چنانچہ جب مسلمانوں سے سوال کیا گیا ماذا انزل ربكم قالو اخیرا۔بھلائی ہی بھلائی ہے۔قرآن کریم کی تعلیم ہر قسم کی مخلوق کے لئے خصوصاً انسان کے لئے بھلائی ہی بھلائی پر مشتمل ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی بنی نوع انسان کی خدمت میں گزری ہے۔آپ نے ہر کس و ناکس کے لئے بھلائی ہی بھلائی چاہی ہے۔اپنوں کیلئے بھی۔غیروں کے لئے بھی آپ کا وجود مجسم ہمدردی اور شفقت تھا۔مکہ والوں نے آپ کی مخالفت میں