مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 335
فرمود ۱۹۷۲۵ء 335 د دمشعل راه جلد دوم کسی کی ۵۰ سال ہے۔ابتدائی زندگی تو تعلیم و تربیت کی زندگی ہے۔ابتدائی زندگی نتیجہ پیدا نہیں کر رہی ہوتی بلکہ کسی اور کے کام کا نتیجہ کھا رہی ہوتی ہے۔مثلاً آپ کو ماں باپ خرچ دے رہے ہیں یا آپ کو وظیفہ مل رہا ہے یا اگر آپ امیر گھرانہ میں پیدا ہوئے ہیں تو آپ کو دیگر آرام و آسائش حاصل ہے۔یہ آپ کی اپنی کوشش کا نتیجہ یا آپ کے عمل کا ثواب نہیں کہلائے گا۔گویا اس دنیا کی محدود زندگی کے مقابلہ میں ابدی زندگی ہے جو موت کے بعد ملتی ہے جو مسلمان ہے اسے ابدی زندگی ملے گی لیکن جن کی کوششیں اس محدود زندگی میں فائدہ اٹھانے کے لئے تھیں ان کو ابدی زندگی نہیں ملے گی۔گو ایسے لوگ عام اصول کے مطابق ایک حد تک دنیا میں کامیاب ہو گئے لیکن جو حقیقی راحت اور سکون ہے وہ انہیں عام طور پر نہیں ملا۔پیسہ مل گیا تو کیا ہوا۔میں ذاتی طور پر بعض ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اگر چاہیں تو پیسے خرچ کر کے ہوائی جہاز کے ذریعہ انگلستان سے بھی کھانا منگوا کر کھا سکتے ہیں۔گو پیسہ تو ان کو بے شمار مل گیا۔لیکن ان کا معدہ خراب ہو گیا۔جب نظام ہضم خراب ہوا تو ڈاکٹر نے کہہ دیا ابلی ہوئی چیزیں کھاؤ۔یہ کھاؤ اور وہ کھاؤ۔آخر کھانے کی بھی تو ایک لذت اور آرام ہے۔اس سے بھی تو انسان سرور حاصل کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پیسہ دے دیا اور اس لذت سے محروم کر دیا۔دو نتیجے مترتب ہوئے پیسے ملنے کی شکل میں کامیابی مگر کھانے کی لذت سے محرومی کی شکل میں نا کا می لیکن جو حقیقی مومن ہے۔اس کا آخری نتیجہ اس دنیا میں بھی کامیابی ہے۔البتہ یہ صحیح ہے کہ اس دنیا میں اسے قربانیوں اور آزمائشوں کے دور سے ضرور گذرنا پڑتا ہے۔مسلمانوں نے مکی زندگی میں بڑی تکالیف اٹھا ئیں۔ان میں سے بعض شہید کر دئیے گئے۔پھر مدنی زندگی میں بھی بہت سارے شہید ہوئے۔کچھ زخمی ہوئے۔غرض انہیں کھانے پینے پہنے اور رہنے سہنے کی ہزار ہا تکلیفیں اٹھانی پڑیں لیکن مسلمانوں کی اکثریت ایسی تھی جن کے قدموں میں خدا نے کسری اور قیصر جیسی عظیم سلطنتوں کے خزانے ڈال دیئے۔کسری اور قیصر دنیا کی لالچ میں دنیا کے خزانے جمع کر رہے تھے۔تا کہ وہ اور ان کی نسلیں ان سے فائدہ اٹھائیں۔لیکن خدا نے دھوتی پوش بظاہر چیتھڑوں میں ملبوس مسلمانوں کو ان کا مالک بنا دیا اور ثابت کر دیا کہ مزدور تھا کسری اور مزدور تھا قیصر جنہوں نے سالہا سال تک یہ خزانے جمع کئے تھے۔اس خیال سے کہ وہ ان سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن خدا نے مسلمانوں کو ان کے خزانوں کا مالک بنا دیا اور اس طرح گویا مسلمانوں کو ان کی قربانیوں کی اس دنیا میں بھی جزا مل گئی اور اخروی زندگی میں بھی جزا ملے گی۔600 اسی طرح ہم آخرت پر بھی ایمان لاتے ہیں اور پکا ایمان رکھتے ہیں۔اس کے بغیر تو ہم سمجھتے ہیں کہ انسان کا ہر عمل باطل ہے۔چنانچہ آخرت پر ہم ایمان لاتے ہیں۔انبیاء کے سلسلہ پر ہم ایمان لاتے ہیں۔خاتم الانبیاء پر حقیقی معنوں میں ہم ایمان لاتے ہیں۔قرآن کریم پر ہم ایمان لاتے ہیں۔اس کے ساتھ ہم یہ بھی ایمان لاتے ہیں کہ اب وہ زمانہ پھر آ گیا ہے یعنی اسلام کے غلبہ کا زمانہ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے پیار کا بنی نوع انسان کے دل میں پیدا ہونے کا زمانہ اور توحید کے جھنڈے کو دنیا کے کونے کونے اور گھر گھر پر لہرانے کا زمانہ آ گیا ہے۔