مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 334 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 334

334 فرموده ۱۹۷۲ء دو مشعل راه جلد دوم زندہ تعلق پیدا کیا جا سکتا ہے۔کوئی اس حقیقت کو مانے یا نہ مانے ایک احمدی جس نے خدا تعالیٰ کے زندہ نشانوں کو اپنی اور اپنے بزرگوں کی زندگیوں میں دیکھا ہے اس کا دماغ یہ کہے گا کہ خدا داد عقل و فراست کے نتیجہ میں نئے اور بدلے ہوئے حالات میں قرآن کریم کی ابدی صداقتوں کی تشریح و تفسیر مارکس اور لینن کی تھیوریز کی تعبیر وتشریح سے بدرجہا بہتر ہے کیونکہ وہاں خدا کی راہنمائی شامل ہے مگر یہاں صرف عقل پر تکیہ ہے۔انسانی عقل کے نتیجہ میں جو نظریات جنم لیتے ہیں یا ان کی تشریح کی جاتی ہے ان کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی تفسیر و تشریح ہی اولی وافضل ہوتی ہے۔اس واسطے اے میرے بچو! سنو اور یاد رکھو کہ ہمارے ہاتھ میں قرآن کریم ہے۔تم اس کو پڑھو اور اور اس کی تعلیم پر عمل پیرار ہو۔کارل مارکس اور بعد میں آنے والے بڑے بڑے صاحب عقل لوگوں کے اصول اور نظریات قرآن کریم کے مقابلہ میں بیچے ہیں۔تاہم اس بات کو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے عقلی لحاظ سے کوشش ضرور کی ہے۔گو وہ الہی نور سے منور تو تھے لیکن اتنے منور نہیں تھے جتنے خدا کے بندے منور ہوتے ہیں۔تا ہم جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے۔جو شخص دنیا کی کوشش کرتا ہے اور اس کے دماغ میں بھی اللہ ہی نور پیدا کرتا ہے۔لیکن ایسا شخص اس شخص سے مقابلہ نہیں کر سکتا جور وحانی طور پر نور حاصل کرتا اور پھر مادی طور پر بھی نور حاصل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے نور سے منور اور خدا تعالیٰ کے سکھائے سے قرآن کریم کی تفسیر کرنے والے۔کارل مارکس سے بہر حال اچھے ہیں۔کیونکہ کارل مارکس کے اصول خود ساختہ ہیں۔الہام الہی کا ان میں کوئی دخل نہیں ہے اور نہ ہوسکتا تھا۔تاہم یہ امر موجب خوشی بھی ہے کہ انسان کے دل میں انسان کا پیار پیدا ہو اور ہم ان کے لیئے روتے بھی ہیں کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے رب سے دور ہو گیا ہے اور خود کو کچھ سمجھنے لگ گیا۔بایں ہمہ جو شخص دنیا کے لئے کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیا کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔یہ او ربات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندہ کی تائید میں کبھی قہ کا جلوہ دکھاتا ہے۔اور تمثیلی زبان میں خدا کی آنکھوں میں غضب بھڑکتا نظر آتا ہے۔تاہم عام اصول یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ جو دشمن دنیا کے لئے کوشش کرے گا اسے دنیا مل جائے گی لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔جو آخرت کے لئے کوشش کرے گا۔اس کو آخرت کی جزا بھی یقینی طور پر مل جائے گی اور دنیا میں بھی بہت بڑا حصہ ہوگا۔لیکن اللہ کے بندہ کی جزا اور جو دنیا کے لئے کوشش کر رہا ہے اس کی کامیابی اور کامیاب نتیجہ میں بہت بڑا فرق ہے۔یعنی آخرت کے لئے کوشش کرنے والے کو دین و دنیا کی نعمتیں ملتی ہیں۔لیکن جس آدمی کی کوششیں صرف اس دنیوی زندگی تک محدود ہوتی ہیں اسے اخروی زندگی نہیں ملتی یعنی وہاں کی نعمتیں وہاں کا سکون وہاں کی بہشت وہاں کی ٹھنڈ کیں، وہاں کی راحتیں، وہاں کا آرام اور وہاں کی رفعتیں اسے نہیں ملتیں۔اس دنیا میں اکثر تھوڑی بہت نعمت مل جاتی ہے۔بعض دفعہ کیا اکثر کچھ بھی نہیں ملتا۔بہت ساری کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں کسی کی ساری کوششیں تو کامیاب نہیں ہوتیں۔لیکن عام اصول یہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے اور اس کی کوئی اور حکمت کارفرما نہ ہو۔تو دنیوی کوشش کامیاب ہو جاتی ہے۔تاہم یہ فعال زندگی تو کسی شخص کی ۲۰ سال کسی کی ۴۰ سال اور