مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 322
322 فرموده ۱۹۷۲ء د و مشعل راه جلد دوم ان کی سمجھ میں ہی نہ آتا کہ بات کیا ہے۔اس زمانہ میں لوگوں کے ذہن اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کے احسان کو قبول کرنے کہ لئے تیار نہیں تھے۔اسی واسطے بھٹکتے رہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نالائق تھی انہوں ے موسی بچھڑے کو خدا بنادیا ان کا بچھڑے کو خدا بنانا جو اپنے رنگ میں عجیب تھا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر آنحضرت ﷺ کی تجلی کیوں نازل نہیں ہوئی۔آپ کے لئے بھی یہ سمجھنا شاید مشکل ہو جاتا ہو کہ کوہ طور پر۔جھاڑ کیوں کھائی۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے خدا۔وہ تجلی مجھے بھی دکھائیں۔اللہ تعالیٰ وہ نے فرمایا نہ تم اس بجلی کو دیکھ سکتے ہو اور نہ تمہاری قوم۔حال یہ تھا کہ اُدھر تجلی دکھانے پر اصرار ہور ہا تھا اور ادھر قوم ایک بچھڑا بنا کر اس کی پرستش کر رہی تھی۔یعنی بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں بچھڑے کی پرستش شروع کر دی تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بتایا کہ حضرت محمد ہے۔جس تو حید کو قائم کرنے کہ لئے مبعوث ہوں گے۔تمہاری قوم بنی اسرائیل اس توحید کی معرفت کو روحانی اور دینی طور پر حاصل کرنے کے قابل ہی نہیں۔اس واسطے مزید تربیت کی ضرورت ہے۔چنانچہ پھر مزید تربیت ہوئی۔پس انبیاء کا سلسلہ اس خطر کے پیش نظر شروع ہوا کہ انسان غلط خدمت نہ لینی شروع کر دے آسمان سے الہی ہدایت نازل ہونی شروع ہوگئی۔جس کے بعد انسان کی تربیت ہوتی رہی تاکہ وہ اپنے اس مقام تک پہنچ جائے جس مقام کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔اور جس کا بہترین نمونہ (جس سے بہتر کوئی اور نمونہ عملاً ہوسکتا ہے اور نہ انسان کے تصور میں آ سکتا ہے ) وہ حضرت مصطفی عیہ ہیں انسان ان کے حسن کی بھی معرفت رکھے اور ان کے اسوہ پر عمل کرنے کی بھی طاقت رکھے۔چنانچہ بڑے لمبے عرصہ کے بعد پھر وہ انسان کامل پیدا ہو گیا۔اور جس وقت وہ انسان کامل پیدا ہوا اور وہ پیدا ہی اس لئے ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام ( میں پیچھے کو جارہا ہوں ) اور حضرت آدم علیہ السلام کا زمانہ جو تھا اس سے آپ کا زمانہ روحانی طور پر اور ذہنی طور پر اور جسمانی طو پر اور تربیت یافتہ ہونے کے لحاظ سے آگے نکل چکا تھا۔اور ساری باتیں تسلیم کرنے کے لئے تیار تھا۔جس کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ دوسرے کروں میں بھی انسان جیسی آزاد مخلوق بستی ہے۔اب یہ تصور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم اس زمانہ میں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔غرض دوسری قسم کی خدمت میں چونکہ یہ خطرہ تھا کہ انسان غلط کام نہ لے۔اور بھلائی کی بجائے بدی کی راہوں کو اختیار نہ کرے۔اس لئے خدا نے آسمانی ہدایتوں کا سلسلہ اور انبیاء کی بعثت کا سلسلہ شروع کیا۔اور ان کے ذریعہ بنی نوع انسان کی تربیت کی اس کا ایک مقصد یہی تھا کہ انسان کی اسی طرح تربیت کی جائے جس طرح زمین کی گئی تھی۔انسان کو قبول کرنے کے لئے انسان کی تربیت کی جائے حضرت محمد اللہ کو قبول کرنے کے لئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں