مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 323
فرموده ۱۹۷۲ء 323 د دمشعل را قل راه جلد دوم یا حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں انسان حضرت محمد ﷺ کو قبول کرنے کے قابل ہی نہیں تھا۔اس کی ابھی کما حقہ تربیت نہیں ہوئی تھی اس کے جسمانی پہنی اخلاقی اور روحانی قومی کی تربیت اور ان کی نشو ونما اتنی نہیں ہوئی تھی کہ حضرت محمد ﷺ کو قبول کر سکے۔اس لئے یہ تربیت ضروری تھی۔اس کا ایک دوسرا حصہ ہے جس کا گویا ایک جوڑ لگا ہوا ہے۔ایک مادی ترقیات اور ایک روحانی ترقیات صلى الله کا۔مثلاً آخرت پر ایمان ہے۔حضرت محمد ﷺ نے اور قرآن کریم نے جس رنگ میں اس مضمون کو بیان کیا ہے پہلی کتب نے اس کو بیان نہیں کیا۔کیونکہ وہ تو میں اس کو سمجھ ہی نہیں سکتی تھیں۔اور آخرت کے بغیر الہی سلسلہ نامکمل ہو جاتا ہے اور ایک تماشا نظر آتا ہے۔اس واسطے خدا تعالیٰ نے سختی سے اس کی تردید کی ہے۔اور آخرت کے حق میں دلائل دے کر بتایا ہے کہ میں نے ان چیزوں کو باطل طور پر پیدا نہیں کیا۔اگر آخرت نہیں۔اگر اس زندگی کے بعد دوسری زندگی نہیں تو پھر ہر چیز ایک کھیل بن جاتی ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میری ہستی کی طرف کھیل کو منسوب کرنا اور مذاق کے رنگ میں منسوب کرنا یہ غلطی ہے۔کیونکہ یہ سب چیزیں کمزوری کی علامت ہیں۔اور میری ذات میں کوئی کمزوری نہیں اور اگر آخرت کی زندگی نہیں اگر اس دنیا میں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے تو پھر یہ دنیا باطل ٹھہرتی ہے۔بے نتیجہ ثابت ہوتی ہے اور اس کی پیدائش کا کوئی مقصد ہی نہیں رہتا۔لیکن ہم نے دیکھا کہ اتنا کام ہے جو لاکھوں سالوں پر پھیلا ہوا ہے۔اور ایک جہت کی طرف حرکت کر رہا ہے۔لاکھوں سالوں تک ہر ایک مخلوق کو کہا کہ زمین کو تیار کرو کہ وہ اشرف المخلوقات کو قبول کرے اور اس میں انسان زندہ رہ سکے۔جب انسان کو پیدا کیا تو ایک الہی ہدایت ناموں کا سلسلہ اور انبیاء علیہ السلام کا سلسلہ شروع کیا۔تا کہ انسان کو تیار کرے کہ وہ محمد مہ کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔اور آپ ﷺ کی شریعت کا بوجھ ہر لحاظ سے اپنے کندھوں پر اٹھانے کے قابل ہو جائے۔پھر آنحضرت ﷺ کو پیدا کیا تو ان کی قوم کو دنیا نے اس قدر تکالیف پہنچائیں کہ اگر دوسری زندگی نہیں تھی اور اگر ہمیں کوئی پیدا کرنے والا سمجھا جائے تو وہ ظالم ٹھہرتا ہے۔ظاہر ہے خدا کے نام کو لے کر وہ کھڑے ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سے انہیں تکلیفیں پہنچ رہی ہیں اور ان کی جزاء کے لئے کوئی مقام ہی نہیں رکھا گیا۔صحابہ جو محمد ﷺ کی مظلومیت کی زندگی میں وفات پاگئے یا شہید کر دیئے گئے ان کی زندگی تو تکلیفوں کے ساتھ ختم ہوگئی۔اب جنہوں نے اپنے عمل اور قربانی اور ایثار کا نتیجہ نہیں دیکھا تو ان سے ہر شخص یہ کہے گا کہ اے خدا تو نے اس دنیا کو باطل پیدا کیا ہے؟ نہیں ہمارے خدا نے اس دنیا کو باطل نہیں بنایا۔اور یہ باطل صرف اس وقت نہیں بنتی جب اس زندگی کے بعد دوسری زندگی ہو ورنہ یہ سارا سلسلہ کا ئنات باطل ٹھہرتا ہے۔اس لئے آخرت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ہمیں سمجھ آئے نہ آئے ہمارا ایمان علی وجہ البصیرت ہو یا نہ ہو جیسا کہ ہزاروں لاکھوں کا ہوا کرتا ہے اور ہوتارہا ہے۔یا ہمارا ایمان بالغیب ہو لیکن آخرت پر ایمان بہر حال ضروری ہے۔ورنہ یہ سارا سلسلہ بے حقیقت ٹھہرتا ہے۔حالانکہ آخرت ایک ایسی حقیقت ہے۔جس سے ہم انکار نہیں کر سکتے۔یہ ساری قربانیاں الہی سلسلوں کے لئے ایک حقیقت ہیں۔جس کا ہم انکار نہیں کر سکتے۔چنانچہ