مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 281
281 فرموده ۱۹۷۱ء د و مشعل راه جلد د دد ، دوم سات دفعہ تک میں نے ان کی ٹوپیاں بدلی ہوئی دیکھیں۔ان کو ٹوپیاں پہنے کا بڑا شوق ہے اُن کی ٹوپی کی کوئی خاص شکل نہیں ہوتی۔بس جس طرح درزی نے بنادی پہن لی۔کسی کا پھند نا ا دھر لٹکا ہوا ہے کسی کا ادھر اٹکا ہوا ہے کوئی سامنے ہے اور کوئی پیچھے۔کوئی رنگ برنگی ہے اور کوئی پھولدار کپڑے کی (جس طرح یہاں جانگلی لوگوں کی پھولدار دھوتی ہوتی ہے اس قسم کے کپڑے کی ) غرض ہر قسم کی ٹوپیاں وہ بناتے رہتے ہیں اور خریدتے رہتے ہیں۔اب تو ہماری جناح کیپ بھی وہاں بڑی مقبول ہورہی ہے ہم بھی یہاں مختلف قسم کے سر کے لباس پہنتے ہیں۔ایک لنگی ہے ایک ٹوپی ہے اور پھر ٹوپیوں میں سے آگے کوئی جناح کیپ کہلاتی ہے اور کوئی کچھ اور ایک ٹرکش کیپ کہلاتی تھی وہ سُرخ رنگ کی ہوتی تھی اُس میں پھر ایک زرم قسم کی اور ایک سخت قسم کی ہوتی تھی میں بھی کسی زمانے میں بچپن میں وہ ٹوپی پہنتا رہاہوں ویسے وہ ہمارے علاقے میں اتنی زیادہ مروج نہیں تھی۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب یہ ( ٹرکش اب بھی پہنتے ہیں۔وہ بڑے محتاط آدمی ہیں میرے خیال میں جب وہ لاء کرنے کے بعد انگلستان سے لاہور آئے تھے ہوسکتا ہے۔اس وقت خریدی ہو اور ابھی تک سنبھال کر رکھی ہو۔بہر حال وہ بھی ٹوپی کی ایک قسم ہے گو پرانی ہے۔لیکن اب بھی بعض لوگ اسے پہنتے ہیں۔پس یہ چیزیں تو بدلتی رہتی ہیں۔نئے لباس کا شوق ہوتا ہے اور ویسے بھی ایک لباس پہنتے پہنتے آدمی تنگ آجاتا ہے یا بیماری کی وجہ سے وقتی طور پر تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ابھی پیچھے جب میں بیمار ہوا یعنی بیمار تو اس طرح نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا تھا لیکن اس کی وجہ سے بہر حال ضعف تھا جس کی وجہ سے بعض دفعہ پگڑی کا بوجھ میرا سر برداشت نہیں کر سکتا تھا تو میں نے ٹوپیاں بھی منگوائیں جو میرے پاس پڑی ہوئی ہیں کبھی سر پر ٹوپی پہن کر نکلتا ہوں۔کئی دفعہ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ٹوپی نہیں پگڑی پہنا کریں۔میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ساری چیزیں میرے لئے پیدا کی ہوئی ہیں میں ساری پہنوں گا۔بہر حال لباس میں کوئی پابندی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی ہر چیز کو انسان کے لئے جائز قرار دیا ہے۔البتہ اس میں افراد تفریط سے بچنا چاہئیے۔لباس نہ اتنا میلا ہونا چاہئیے کہ ایک حساس آدمی کو دیکھ کرتے آ جائے اور نہ اس پر اتنا خرچ کرنا چاہئیے کہ آدمی مقروض ہو جائے۔جتنا خدا تعالیٰ نے دیا ہے اس کے مطابق کپڑوں پر خرچ کیا جائے اور اس میں ایک یہ پہلو بھی مدنظر ہے کہ دولت میں جو دوسروں کے حقوق ہیں ان کے ادا کرنے کے بعد وانفسک علیک حق کی رو سے اپنا حق بھی ادا کرو۔پس مدثر کے ایک معنی اس لباس میں ملبوس ہونے کے ہیں جو ڈیوٹی کا لباس ہے اور معین ہے اور مسلمان کی ڈیوٹی کا لباس لباس تقویٰ ہے۔چونکہ اس حکم کے پہلے مخاطب رسول کریم ﷺے ہیں اس لئے اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ اسے لباس تقویٰ کی حسین ترین شکل میں ملبوس۔دوسرے وہ شخص مراد ہے۔جو گھوڑے پر چڑھا ہوا حکم کا منتظر ہوا سے بھی مدثر کہتے ہیں یعنی خواہش یہ ہے کہ حکم اور عمل کے درمیان ایک سیکنڈ کا بھی فاصلہ نہ وہ یہ نہیں کہ پوستیوں کی طرح دیر کر دی جائے۔