مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 282
مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۱ء 282 ایک معروف قصہ اور اس میں پوشیدہ سبق کہتے ہیں کہ ایک پنجابی لکھنو گیا اور وہاں اپنے ایک دوست کے ہاں مہمان ٹھہرا اس نے اس کی خاطر کرنی تھی۔چنانچہ اس نے اپنے نوکر سے کہا کہ جا کر فلاں پھل لے آؤیا فلاں چیز لے آؤ۔بہر حال نو کر چلا گیا اب وہ اپنے پنجابی دوست پر اپنا رعب ڈالنا چاہتا تھا۔پانچ چھ منٹ کے بعد کہنے لگا کہ اب وہ ( نوکر ) دکان پر پہنچ گیا ہوگا پھر دومنٹ کے بعد کہا اس نے سود اخرید لیا ہے پھر پانچ چھ منٹ کے بعد اس نے کہا کہ اب آ گیا ہے بس پہنچنے والا ہے اور پھر اس نے نوکر کو آواز دی ( جو بھی نام تھا الیاس یا منصور وغیرہ ) وہ عین اُس وقت پہنچا ہوا تھا۔کہا جناب میں چیز لے آیا ہوں آخر نوکر کی اہلیت یہی ہے تا کہ وہ کم سے کم وقت میں پوری چستی کے ساتھ اپنے مالک کا کام کرے۔کچھ عرصے کے بعد وہ لکھنؤ کے دوست اپنے پنجابی دوست کے پاس آئے۔اس نے سوچا کہ مجھے بھی رعب ڈالنا چاہئے۔چنانچہ اُس نے کہا اوختو ! مہمان آئے ہوئے ہیں جارہی لے آ۔پھر یہی کہنا شروع کیا اب وہ دوکان پر پہنچ گیا ہو گا۔اب اُس نے دہی خرید لیا ہے۔اب وہ واپس آ گیا ہے بس وہ پہنچ گیا ہے۔اور پھر اس نے آواز دی اوفتو ! آ گئے ہو؟ اُس نے جواب دیا جی میں جوتی ڈھونڈ رہا ہوں۔ابھی دہی لینے جاتا ہوں۔پس جوتی ڈھونڈنے والا آدمی خدا کا خادم نہیں بن سکتا۔خدا کا حقیقی خادم تو مدثر ہوتا ہے یعنی حکم اور عمل کے متعلق سمجھتا ہے کہ ان میں کوئی فاصلہ نہیں ڈالنا چاہیئے۔حضرت نبی کریم ﷺ کی شان تھی کہ حکم نازل ہونے پر ہی عمل شروع ہو جاتا تھا۔آپ کے ماننے والے کی بھی یہی شان ہونی چاہئیے کیونکہ اول المسلمین تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں لیکن جو شخص بھی صفت کو آپ کی طرف منسوب کرتا ہے اس کا یہ فرض ہے کہ وہ بھی مدثر رہے۔جو ضرورت ہے اس کے مطابق تیار ہو اور جو قرآن کریم کا حکم ہے اور ( بدلے ہوئے حالات میں ) اس کے کان میں پڑتا ہے تو اسے اس کے مطابق عمل کرنا چاہیئے۔دوسری صفت دین کی حفاظت کے لئے عزم فرما یاقم فاند را یک تو وہ زمانہ تھا کہ پوری قوم کیلئے فاندر کا حکم تھا۔قیام کے لفظ میں (جس کا قدوم عربی مصدر ہے ) کھڑے ہونے اور عزم کے معنی بھی پائے جاتے ہیں اور اس کے معنی حفاظت کے بھی ہوتے ہیں۔پس تم فانذر کے یہ معنی ہوں گے کہ دین کی حفاظت کے لئے پورے عزم کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور دنیا کوڈرا ؤا اور ہوشیار کرو۔مدثر میں بتایا گیا تھاکہ تعلق کس سے ہے۔اللہ تعالیٰ سے ہے پس انذار یہ نہیں ہے کہ تمہاری چھتوں کی منڈیر نہیں ہے اور بچے نیچے گر جائینگے۔بلکہ انذار یہ ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ میرا یہ بندہ مدثر بنے میرے حکم پر لبیک کہنے والا ہو اور اپنے عمل سے میری محبت اور میرے پیار اور میرے تعلق کا اظہار کرنے والا ہو۔تم ان لوگوں کو جو اپنے پیدا کرنے والے رب سے پر ہٹ گئے ہیں انہیں اُن عواقب سے ڈراؤ جو خدا تعالیٰ سے دور ہونے والوں