مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 280 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 280

مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۱ء 280 غرض يـا يها المدثر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے مدثر اتو تیار ہے یعنی مدثر کہتے ہی اس شخص کو ہیں جو ادا ئیگی فرض کے لئے ہمہ تن تیار ہو۔منافق کی ایک واضح علامت قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ولو اراد والخروج لا عدو اله عدة (التوبه ٤٦) اگر یہ منافق جنگ کے لئے باہر نکلنے کا ارادہ رکھتے تو بہانے نہ کرتے بلکہ یہ تیار ہوتے۔ہتھیار خریدے ہوتے گھوڑے ان کے پاس ہوتے علوم قرآنیہ سے اپنی زینت کی ہوتی لباس تقوی میں دنیا کو ملبوس نظر آتے اور پھر یہ جنگ کے لئے باہر نکلتے۔لیکن تقویٰ نہیں تیاری نہیں اور قربانی نہیں۔اپنی بہانہ جو خو کو ظاہر کر رہے ہیں اور اپنے نفاق کا مظاہرہ کر رہے ہیں پس منافق کی تو یہ علامت ہوتی ہے کہ وہ دعوی کرتا ہے لیکن اس کے مطابق تیار نہیں ہوتا۔مگر یہاں مخاطب کو یہ کہا گیا ہے تو تیار ہے یعنی مدثر ہے اس معنی میں بھی کہ جو کام تمہارے سپرد ہے اس کو نباہنے کیلئے تم پوری طرح تیار ہو۔لباس تقوی اور اس کی اہمیت مثلاً ہر کام کے لئے ایک لباس ہے۔گھوڑی کی سواری کا لباس ہے۔ایک سو گز دوڑ کا لباس ہے مسجد میں آنے کا لباس ہے لوگ سر بھی ڈھانپے ہوئے مسجد میں آتے ہیں مگر گھر میں انسان بیٹھے ہوئے اچکن بھی اتار دیتا ہے ننگے سر ہو تب بھی کوئی بات نہیں کیونکہ گھر کا بھی ایک لباس ہے لیکن ایک لباس مسلمان کا ہے اور مسلمان کا لباس ہے لباس تقوی۔اور ایک مسلمان کی ساری بھلائی اس لباس میں ہے۔باقی لباس تو ہیں ہی۔اللہ تعالیٰ دیتا ہے لوگ پہنتے ہیں۔کوئی ٹوپی پہن لیتا ہے۔کوئی پگڑی پہنتا ہے کوئی رومال باندھ لیتا ہے تو کوئی عقال جو عرب کالباس ہے یہ ایک رسہ سا ہوتا ہے جسے لوگ سر کے رومال پر لپیٹ لیتے ہیں۔اس میں بھی ایک خوبصورتی ہے۔میں نے بھی عرب سے پیار کے نتیجہ میں کچھ عقال منگوائے ہیں۔میرا خیال تھا کہ گھوڑے کی سواری کریں تو وہ بھی انشاء اللہ استعمال کریں گے۔لیکن ایک ایسا لباس ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور وہ تقویٰ کا لباس ہے۔یہ نہیں کہ کبھی تقویٰ کا لباس اوڑھا ہوا ہے اور اس سے نور کی شعائیں باہر نکل رہی ہیں اور کبھی شیطان کا دامن ا۔اپنے گرد لپیٹ لیا ہے اور ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا گیا ہے بہر حال اس لباس (یعنی لباس تقوی ) میں تبدیلی نہیں ہوتی۔باقی تو جتنے لباس ہیں اُن میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ہمارے ملک میں کم عادت ہے دوسرے ملکوں میں زیادہ ہے۔مثلا افریقہ کے دورے میں جو دوست مجھے ملتے رہے ہیں میرے خیال میں بلا مبالغہ دو دفعہ سے لے کر