مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 272 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 272

د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۱ء 272 اشتراکیت کے اندر بڑے مضبوط گروہ اور اقوام ایسی پیدا ہوئیں اور کچھ ایسے ملک بن گئے جنہوں نے انقلابی اشترا کی روس پر اعتراض شروع کر دئے۔کہ انہوں نے مسائل حل نہیں کئے۔مثلاً چین اب روس پر اعتراض کر رہا ہے کہ تم مزدور کے مسائل حل نہیں کر سکے۔اسلام نے مزدور کا مسئلہ حل کر دیا ہے لیکن اسلام کو عارضی طور پر ایک جگہ ٹھہر نا پڑا جو ہمارے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہے۔میں نے بتایا ہے کہ اسلام ہی بدلے ہوئے حالات کا مقابلہ کرتا چلا آیا ہے اور کرتا چلا جائے گا۔ہمیں کچھ ایسے زمانے اور کچھ ایسے ملک بیچ میں نظر آتے ہیں کہ وہاں کے مسلمانوں کے گناہوں کے نتیجہ میں اور اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کے مطابق کہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور بھلا دیا اس لئے میں ان کو سزا دوں گا اس زمانہ میں اور ان ملکوں میں ہمیں اسلام ٹھہرا ہوایا پیچھے ہٹتا ہوا نظر آتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی انسانی تاریخ کی نگاہ نے اسلام اور امت محمدیہ کو آگے ہی آگے بڑھتے دیکھا ہے اور بھی پیچھے ہٹتے نہیں دیکھا۔یہ دوصدیوں کا جو پچھلا زمانہ ہے اس کے متعلق بھی پیشگوئیاں تھیں۔یہ بھی اسلام کی شان ہے کہ جب تنزل آیا تو پہلے سے بتادیا کہ اس زمانے میں ایسے حالات پیدا ہوں گے جب کہ بظاہر اسلام پر اعتراض آئے گا لیکن وہ اعتراض سچا نہیں ہوگا کیونکہ انسانی زندگی میں صدی دوصدی کی مدت بے معنی ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے جو حالات پیدا ہوتے رہے ہیں اس میں تو صدی دوصدی کچھ چیز نہیں اور خود اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں بھی یہ کچھ نہیں پھر اس صورت میں کہ صرف ایک ملک کے حالات ایسے تھے اور اسی زمانہ میں اسلام بعض دوسرے ملکوں میں آگے بڑھ رہا تھایا چھوٹے چھوٹے Pockets(پاکٹس ) آگے بڑھنے والے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ جو تنزل کا زمانہ اسلام پر آیا تھا اس میں اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والوں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والوں کی تعداد سمندر کے قطروں کی تعداد کی طرح تھی لیکن ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے امت محمدیہ کو بڑے زور سے دھکا لگا ہو اور ذرا سا پیچھے ہٹ گئی ہو لیکن بے شمار Pockets (پاکٹس) ایسی تھیں اور ملک ایسے تھے جہاں اسلام ترقی کر رہا تھا تاہم ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حجاب نہیں کہ خدا کی بتائیں ہوئی پیشینگوئی کے مطابق ماضی قریب میں ایک زمانہ ایسا بھی آیا جس میں بظاہر اسلام کو پیچھے ہٹنا پڑا لیکن اسلام کی یہ آخری شکست نہیں تھی کیونکہ آخری شکست اسلام کا مقدر نہیں بلکہ آخری فتح اسلام کا مقدر ہے۔آخری فتح اسلام کا مقدر ہے جس طرح ایک وقت میں چنگیز اور ہلاکو اور اس کے دوسرے بچوں اور اس کے Tribes ( ٹرائیز ) یعنی قبیلوں نے بعض مسلمان ملکوں اور بغداد کی اس وقت کی حکومت کو جو خلافت کہلاتی تھی پامال کیا اور مسلمانوں کو وقتی طور پیچھے ہٹنا پڑا لیکن پھر مسلمان آگے بڑھے اور اپنے فاتح کی تلوار کو پیار سے مفتوح کر لیا اور ان کے دل جیت