مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 257
257 فرموده ۱۹۷۰ ء د و مشعل راه جلد دوم دو جانتا ہوگا کہ یہ براڈ کاسٹنگ سٹیشن افریقہ کے کسی ملک میں لگایا جائے گا لیکن یہیں سے کسی نے حکومت کو یہ رپورٹ بھجوائی کہ میں نے اپنے خطبہ جمعہ میں یہ اعلان کیا ہے کہ یہ براڈ کاسٹنگ سٹیشن ربوہ میں لگائیں گے اور قانون شکنی کرتے ہوئے لگائیں گے اور گورنمنٹ کو ہوشیار رہنا چاہیئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جماعت احمد یہ چپکے سے لگالے اور گورنمنٹ کو پتہ ہی نہ لگے یعنی جماعت احمد یہ براڈ کاسٹنگ سٹیشن چپ کر کے لگالے اور حکومت کو علم ہی نہ ہو۔غرض ایسی باتیں بھی لوگ کر جاتے ہیں۔کس نے یہ بات کی یہ پتہ نہیں لیکن یہ یقینی طور پر پتہ ہے کہ حکومت کو کسی نے یہ بات بھی لکھ دی۔بعض مخالفوں نے دھڑلے سے اپنی تقریروں میں یہ کہدیا کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے نصرت جہاں ریز روفنڈ سیاسی مقاصد کے لئے جاری کیا گیا ہے۔بندہ خدا! ہم نے افریقہ کا دورہ کیا۔اسلام کی ضرورت کو دیکھا۔لوگ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر قربانیاں دے رہے ہیں۔میں نے اس ریز روفنڈ کے وعدہ جات کے سلسلہ میں احباب کو ایک یاد دہانی کرائی تھی جس کے جواب میں ابھی چار پانچ دن ہوئے۔لنڈن سے ایک احمدی دوست کا خط آیا ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ میں نے کچھ رقم اپنی شادی کے لئے جمع کی ہوئی تھی۔اب آپ کا خط مجھے ملا ہے اور میں نے یہ رقم نصرت جہاں ریزروفنڈ میں دے دی ہے اور اپنی شادی ملتوی کر دی ہے۔پس اس قسم کی قربانیاں دینے والے لوگوں کے چندہ سے جو نصرت جہاں ریز ورفنڈ بنا ہے ہم اتنے احمق اور گدھے ہیں کہ اس روپیہ کو سیاسی مقاصد پر خرچ کر دیں گے اور ویسے بھی ہمارے چندوں کا حساب اس طرح تو نہیں جس طرح آج کل دنیا میں ہو رہا ہے ہمارا تو ایک ایک پیسہ کھاتوں میں درج ہوتا ہے۔چیکوں کے ذریعہ انکا خرچ ہوتا ہے اور بالکل محفوظ ہے جس کی مرضی ہو ہر وقت آ کر چیک کر سکتا ہے۔پس یہ کہنا غلط ہے کہ یہ سیاست لڑ رہے ہیں۔لوگ اس قسم کی تقریریں کر جاتے ہیں۔اس قسم کی رپورٹیں بھجوا دیتے ہیں لیکن کیا ہم افراد جماعت احمد یہ ہمارے بڑے بھی اور چھوٹے بھی ہمارے بچے بھی اور جوان بھی اس ارفع اور اعلیٰ مقام صدق پر کھڑے ہو چکے ہیں کہ کوئی شخص اپنے تجربے کی بناء پر یہ نہ کہہ سکے کہ فلاں احمدی جو بات کر رہا ہے وہ غلط ہے اور اس کا مخالف جو کہہ رہا ہے وہ صحیح ہے۔یہ مقام حاصل کرنا چاہیئے اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے 1999 حمدی اس مقام پر قائم ہیں لیکن اگر ایک بھی کمزور ہے تو یہ بات جماعت کو بدنام کرنے والی ہے۔پس سچائی کے اوپر پختگی سے قائم ہونا چاہیئے۔کوئی فرق نہیں پڑتا گود نیا اس کو پسند نہیں کرے گی۔ہمیں کئی دفعہ تکلیفیں دی گئیں۔( میں اس وقت تفصیل میں نہیں جاسکتا ) تکلیف اس وجہ سے کہ آگے سے جواب یہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ آپ جھوٹ بولنے کے لئے تیار نہیں اس لئے آپ کو یہ حق نہیں مل سکتا۔یہ بات ٹھیک ہے ہم اپنا حق جھوٹ بول کر نہیں لینا چاہتے مثالیں میں خاص وجہ سے نہیں دے رہا لیکن بہر حال یہ بھی ہوتا رہتا ہے کہ آپ جھوٹ بولیں گے تو آپ کو اپنا حق ملے گا ورنہ نہیں مل سکتا۔ہم حق چھوڑتے ہیں لیکن سچ کو نہیں چھوڑ سکتے یہ جذ بہ ہر احمدی کے اندر پیدا ہونا چاہیئے اور سچ بولنے کی پختہ عادت ڈالنی چاہیئے۔یعنی سچ بولنا اس کی سوچ اور اس کی روح اور اس کے دماغ کا حصہ بن جانا چاہیئے۔اب